اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مکتُوباتِ مقبُول بٹ شہِید

مکتُوباتِ مقبُول بٹ شہِید

 

تحرِیر ۔ امجد بٹ ۔ مری

اِلہامی پیغامات سے پہلے بھی اِنسانوں کے مابین قدِیم مِصر میں خطُوط نوِیسی کے شواہد موجُود ہیں ، جہاں لوگ پاپیروس اور مِٹّی کی تختیوں پر خطُوط لِکھتے تھے ۔ 1635ء میں باقاعدہ ڈاک سِسٹم کا آغاذ برطانیہ سے ہُوا ۔ روابط کا یہ سفر بتدرِیج ٹیلی گراف ، ٹیلی فُون ، اِنٹرنیٹ اور اِی میل تک پہنچ کر نئی منازل کے لئے قُدرت کی بنائی گئی کائنات میں اِنسانی دریافتوں کا مُنتظِر ہے ۔
درجِ بالا پیغامات کو قُدرت نے آج سائنسی ترقّی کے باعث کُتب اور سوشل مِیڈیا میں محفُوظ کرنے کا خُوب اہتمام کر لِیا ہے ۔ تحقِیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہر اِلہامی پیغام اور شاعری کے وجُود میں آنے سے پہلے اُس کے اسباب وجُود میں آتے ہیں ۔ ایسے ہی مکتُوب لِکھنے کا بھی کوئی نہ کوئی سبب ضرُور باعثِ تحرِیر رہا ہے ۔
اُردُو کے معرُوف مطبُوعہ مکتُوبات میں ، غالب کے خطُوط "اُردُو مُعلّیٰ”(1868ء) ، "مکتُوباتِ اِقبالؒ ” ، "خطُوطِ جوش ملِیح آبادی” ، "پریم چند کے خطُوط” ، "منٹو کے خطُوط” ، "خطُوطِ مشاہِیر” ، "مکاتِیبِ سر سیّد” ، "غُبارِ خاطِر” ، "خطُوطِ شِبلی” ، "خطُوطِ فیض” ، "نقُوشِ زِنداں”(سجاد ظہِیر) ، "طاہرہ کے نام خطُوط”(غُلام احمد پرویز) اور "گویا دبِستان کھُل گیا”(چوہدری مُحمّد علی رُدولوی) وغیرہ کی تعداد اب سینکڑوں تک محدُود نہِیں رہی ۔ لیکِن اِن میں ابُوالکلام آزاد کے خطُوط پر مبنی کِتاب "غُبارِ خاطِر” عربی ، اُردُو و فارسی کے اشعار اور عِلمی و ادبی جُملوں کے برمحل اِستعمال کے باعث مُنفرد اور نمایاں مقام کی حامل ہے ۔ شاید یہ اُردُو خطُوط کی واحد اِنسائکلوپِیڈیا ہے جِس کے 24 خطُوط 240 صفحات پر مُحِیط ہیں جبکہ اِن خطوط کے حواشی و ماخذ اور مُستعمل آیات و اشعار کا ترجمہ بھی 150 صفحات پر مُشتمل ہے ۔
ہمارے ہاں "جی ٹُو” Generation – 2 یعنی( وٹس ایپ پر تحرِیری اور صوتی پیغام کے آنے سے پہلے 2000ء کی) دوسری نسل تک خطُوط نوِیسی اور ڈاکیے کا رواج موجُود تھا ، بلکہ ڈاکیے کا ایک مہمان کی طرح اِنتظار کِیا جاتا تھا ۔ لہٰذا دُنیا کی ساڑھے تِین ہزار زُبانوں کی طرح اُردُو ادب میں بھی مکاتِیب کا ایک خزانہ موجُود ہے ۔
یہ بات تو درُست ہے کہ معیاری صحافت میں وہی لوگ اپنا مقام بنا سکے ہیں جِن کا ادب کے گہرے مُطالعے و تحقِیق سے تعلق رہا ہے ۔ زمانۂ طالب عِلمی میں مقبُول بٹ صاحب کا بھی اخبار "انجام” اور "خیبر وِیکلی” سے عملی تعلق تھا ۔ اُن کے جیل سے لِکھے گئے خطُوط پر مُشتمِل کِتاب "شعُورِ فردا” کے بغور مُطالعے سے بخُوبی معلُوم ہو جاتا ہے کہ اُنہوں نے نہ صِرف اُردُو ادب کا مُطالعہ کر رکھا تھا بلکہ اُن کے خطُوط میں قُرآنی آیات ، ادبی اِصطلاحات ، اِنقلابی واقعات اور برمحل اشعار کا ذِکر موصُوف کی دِینی ، ادبی اور سیاسی وسِیع النظری کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ فنِ تحرِیر میں عدل سے بھی خُوب واقف تھے کہ انگریزی اور اُردُو کے کِس لفظ اور محاورے کو کِس جگہ اِستعمال کرنا ہے ۔ ممدُوح کی زِندگی بھر کے مُطالعے اور تجربات کی جھلک کا نام ” شعُورِ فردا” ہے ۔
آج دُنیا کے آٹھ ارب اِنسانوں کے لئے اربوں کُتب کا خزانہ موجُود ہے ۔ اِن میں اِلہامی کُتب ربِ کائنات کے وہ خطُوط ہیں جو اُس نے اپنے پیغام بروں کے ذریعے نسلِ اِنسانی تک پہنچائے ہیں ۔ فرق صِرف اِتنا ہے کہ کون کِس پیغام کو اپنی فِکری و عِلمی اِستطاعت کے مُطابِق کِس حد تک سمجھ کر اِستفادہ اور عمل کرتا ہے ۔ ادبی و سیاسی مکتُوبات کے ساتھ ساتھ جیل سے لِکھے گئے مکاتِیب کی بھی اپنی ہی اہمیّت اور خصُوصیت رہی ہے ، جِنہیں لِکھنے والوں کے مرنے یا شہِید ہو جانے کے بعد اُن کے چاہنے والوں نے اِنتہائی عقِیدت ، مُشقّت اور قُربانیوں سے جمع کر کے تارِیخ اور اُن غیر معمُولی اِنسانوں کے درمیان رابطے اور پُل کا کِردار ادا کِیا ہے ۔ ایسے ہی ایک رابطہ کار اور خُلُوص کی مضبُوط بُنیادوں پر پُل قائم کرنے والے بے لوث فرد کا نام مُحمّد سعِید اسعد ہے ، جو اپنی ذات کے اندر ایک تحرِیک ہیں ۔ تارِیخِ کشمِیر اور جہادِ کشمِیر کے حوالے سے جِتنی اہم معلُومات کو یکجا کر کے سعِید صاحب نے درجنوں کُتب میں محفُوظ کِیا ہے ، اِس سے پہلے پاکِستانی کشمِیر کی تارِیخ میں مِثال نہِیں مِلتی ۔ "شعُورِ فردا” نامی تالِیف بھی موصُوف کی ایک ایسی ہی بے مِثال کاوِش ہے جو مقبُول بٹ شہِید کے اُن 42 خطُوط پر مُشتمِل ہے جِن میں سے اُنہوں نے کیمپ جیل لاہور سے 2 ، تہاڑ جیل نئی دہلی 7 ، سنٹرل جیل نئی دہلی 28 ، کوٹ لکھپت جیل لاہور 1 ، پِشاور 3 اور ریکس ہوٹل راولپنڈی سے 1 خط لِکھا ۔
اِس کِتاب کے چار ایڈِیشن چھپ چُکے ہیں ۔ فروری 1998ء میں مِیرپُور آزاد کشمِیر کے "الخبِیر ہوٹل” میں احمد فراز کی زیرِ صدارت اِس کِتاب کی ایک باوقار تقرِیبِ رُونُمائی مُنعقد ہُوئی ۔ مری سے لِبریشن فرنٹ کی دو ذِمہ دار شخصیات جناب پرویز مِیر اور جناب اِسحاق کاشمِیری مرحُوم کی مصاحبت میں راقم نے بھی شِرکت کی تھی ۔ یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ معرُوف صحافی اور "جِیو نِیُوز” کے اینکر حامد مِیر کے مُطابِق کِتاب میں اپنا اصل چہرہ سامنے آنے پر حکُومتِ پاکِستان نے اِس پر پابندی لگا دِی تھی ۔
اِس کِتاب میں موجُود مکاتِیب کی مُختلِف حوالوں سے اہمیّت ہے ۔ قاری اپنی سیاسی معلُومات اور سرزمِینِ کشمِیر سے وابستگی کے مُطابق اِستفادہ کر سکتا ہے لیکن راقم کو اِن خطُوط میں مرقُوم مُتعدّد مُتاثر کُن جُملوں اور تراجم میں سے اِنتہائی مصلحت کے ساتھ کڑا اِنتخاب کرنا پڑا ہے ۔
مقبُول بٹ صِرف بہترِین سامع اور کم گو اِنسان نہِیں تھے بلکہ صِرف سوال پُوچھنے پر وضاحت اور دلِیل کے ساتھ بولتے ۔ ایک اُستاذ کی طرح اُن کا اندازِ گُفتگُو صِرف سمجھانے والا ہوتا ۔ اپنی بات ہر گِز دُوسروں پر مُسلّط نہ کرتے ۔ لہٰذا کِسی بھی مجلس میں اُن کی مُختصر و مُدلّل تقرِیر سامعِین کی توجّہ کا مرکز رہتی ۔ مقبُول بٹ کی اِنفرادیت یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے لِکھاریوں کی اکثرِیّت کی طرح معلُومات کے ڈھیر سے ہزاروں صفحات کالے کرنے کے بجائے اپنے اِنقلابی عمل سے زِندگی کی وہ کِتاب لِکھی کہ مُختلِف لِکھاری آج اُس کی تفاسِیر پر مُشتمِل ہزاروں صفحات کے کالم لِکھ چُکے ہیں ۔
مذکُورہ خطوط سے حوالہ جات مُلاحِظہ فرمائیں :
1 ۔ عذرا مِیر(ایبٹ آباد) کو کوٹ لکھپت جیل سے لِکھتے ہیں :
"ظالموں کی اولاد اپنی آنکھوں سے اِنسانوں پر ظُلم ہوتے دیکھتی ہے مگر ٹس سے مس نہِیں ہوتی ۔ مُجاہدوں کی اولاد ظُلم کو برداشت ہی نہِیں کر سکتی ۔ جب ظُلم ہوتا ہے تو وہ خُون کے آنسُو روتی ہے اور اِس میں ظالموں کے خِلاف جنگ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ” ۔
"جو حُکمران اپنے عوام کے خِلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں وہ دُوسروں کے ساتھ بھی نااِنصافی ہی کرتے ہیں ۔ ہر دور کے پاکِستانی حُکمران طبقے کو کشمِیر کی آزادی سے کوئی دِلچسپی نہِیں ۔ اِن کے زُبانی جمع خرچ پر بھروسہ کرنا ہی نہِیں چاہیے ۔ البتّہ پاکِستان کے عوام ہمارے اصل دوست اور حامی ہیں” ۔
2 ۔ ملک مُحمّد اصغر(کوٹلی) کی سنٹرل جیل دہلی سے یُوں ذہن سازی کرتے ہیں :
"کُچھ جُرم ایسے ہیں جِن کا اِرتکاب اہلِ عزم و اِیمان کے لئے باعثِ صد اِفتخار ہوتا ہے ، جو غُلاموں میں سوز و یقِین پیدا کرتا ہے اور ‘کنجشکِ فرومایہ’ کو شاہِین سے پنجہ آزمائی پر آمادہ کرتا ہے ” ۔
3 ۔ اِکرام اللّٰہ جسوال(مِیرپُور) کے ساتھ سنٹرل جیل دہلی سے یُوں مُخاطب ہیں :
"اِنسانی تارِیخ کی ترتِیب و تزئین کی زمام ہمیشہ اہلِ عِشق کے اُس قبِیلے کے ہاتھوں میں رہی ہے جِنہوں نے وقت کی مُقتدر روایات اور شخصیات کے خِلاف بغاوت کا علم بُلند کِیا اور سوچ و عمل کو نئی سمت عطا کی ” ۔
"قومی تشخّص قُدرت کی دین ہوتا ہے ، اِسے دُنیا کی کوئی طاقت مِٹا نہِیں سکتی ۔ اِس لئے ترکِ تشخّص کے ساتھ وابستہ تقسِیمِ وطن کا تصوّر بھی ہمارے لئے ایک گُناہِ عظِیم سے کم نہِیں” ۔
"دُنیا میں کون سکُون و اِطمینان کا خواہش مند نہِیں لیکِن قبرستان کے سُکُون اور رواں دواں زِندگی کے سُکُون میں اِمتیاز نہ کرنا نادانی کی علامت ہے ” ۔
"نااُمِیدی کو غیر مُستحسن قرار نہِیں دِیا جا سکتا ، یہ اِنسانوں کی دربدری کا نہِیں بلکہ اِن کو مُجتمع کرنے اور ظُلم و جبر کی قُوّتوں کے مُقابلے میں فتح و کامرانی سے ہمکنار کرنے کا باعث بنتی ہیں ” ۔
"آپ کے اِس خیال سے اِتّفاق مُمکِن نہِیں کہ’یہ دُنیا بہرحال جہنّم ہے’ ہئیتِ ترکِیبی کے لحاظ سے چند عناصرِ طبعی کے اِس مجمُوعے میں اگر وسائل نہ ہوتے تو اِنسان سِتاروں پر کمند ڈالنے کا سوچ بھی نہ سکتا” ۔
” یہ مُمکِن نہِیں کہ دہشتِ صلِیب کے باعث اِنجِیلِ آگہی کے اوراق کھُلنے نہ پائیں اور اِنسانیت اِس کی ضیاء پاشیوں سے محرُوم رہے ” ۔
4 ۔ نعت خواں شاعر مُحمّد عارف(چکسواری کشمِیر ، مُقِیم برطانیہ) کے ساتھ کلام اللّٰہ کے ذریعے اِنقلابی کارکُنوں کی تربِیّت کرتے ہیں :
"اور نہ ہِمّت ہارو اور نہ غم کرو ، تُمہی سربُلند رہو گے اگر تُم سچّے مومن ہو (آلِ عِمران 139) ، بارہا چھوٹی جماعتیں اللّٰہ کے حُکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں (البقرہ 249)”
"جِس بِیماری کا عِلاج مُمکِن نہ ہو اُسے برداشت کرنا چاہیے”(انگریزی ضرب المِثل کا ترجمہ) ۔
5 ۔ ملَک غُلام سرور مرحُوم (کوٹلی ،مُقِیم برطانیہ) سے سنٹرل جیل دہلی سے تبادلۂ خیال مُلاحِظہ ہو:
"معرُوف فلسفی جین پال سارتر نے کہا تھا ‘ رابطوں کے مُنقطع ہو جانے سے تشدّد کی بُنیاد پڑتی ہے ۔ جہاں رابطہ مُنقطع کِیا گیا ہو وہاں مارنا ، جلانا اور لٹکانا ہی باقی رہتا ہے”.
” جب تک ظُلم و سِتم کی سیاہ رات کے سائے ہمارے اُوپر منڈلاتے رہیں ، ستُونِ دار پر سروں کے چراغ روشن کرتے چلے جائیں” ۔
” میرے مُقدمے کی فائلوں کو کِسی کنواری لڑکی کے پیٹ میں موجُود ناجائز حمل کی طرح عوام سے کِیُوں پوشِیدہ رکھا جا رہا ہے ؟” ۔
6 ۔ راجہ مُظفر خان(مُظفرآباد ، مُقِیم امرِیکہ) کے ساتھ سنٹرل جیل دہلی سے اِشتراکِ جذبات کا ایک رنگ :
"اِنسانیت کو بھسم کرنے والے ظُلم و جبر کے انگاروں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے آتشِ نمرُود میں بےخطر کُودنے کی ضرُورت ہمیشہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ بھلا یہ کیسے مُمکِن ہے کہ صلِیب کو بوسہ دِیئے بغیر اِنجِیلِ آگہی کے اوراق کھُلنے پائیں” ۔
7 ۔ ماسٹر مُحمّد مقبُول (ایبٹ آباد) کو تہاڑ جیل نئی دہلی سے لِکھتے ہیں :
"سچ تو یہ ہے کہ حالات کی سِتمگری اب ایسی حدوں کو چھُو رہی ہے کہ اشکوں کی سوغات بھی اِمتدادِ زمانہ کی آنچ سے خُشک ہو چُکی ہے ۔ ایسے میں سوائے خاموش ماتم کے اور چارہ ہی کیا ہے ؟” ۔
8 ۔ ڈاکٹر فارُوق حیدر(صدر راولپنڈی) کے ساتھ ڈاک کے نِظام کو یُوں بے نقاب کرتے ہیں :
"خط کو رجِسٹری کر کے بھیجنے کا تکلّف بے جا ہے ، وہ خطُوط جِن کا مُقدّر ہی مُقدروں کے خُداؤں کی قُربان گاہوں پر بھِینٹ چڑھنا ہوتا ہے اُنہیں ڈاک کی رجسٹری جیسے مراسم کی روانگی کیسے بچا سکتی ہے ؟” ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481