اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کراچی،گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی،5 افراد جاں بحق

کراچی،گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی،5 افراد جاں بحق

 کراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، 5 افراد جاں بحق، اربوں کا نقصان

کراچی (نیوز ڈیسک): کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع ‘گل پلازہ’ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ہفتے کی شب لگنے والی اس آگ کے نتیجے میں اب تک 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ عمارت کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

حادثے کی تفصیلات اور جانی نقصان

ریسکیو حکام کے مطابق آگ ہفتے کی رات تقریباً سوا دس بجے میز نائن فلور پر واقع مصنوعی پھولوں کی دکان سے شروع ہوئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دم گھٹنے اور آگ کی زد میں آنے سے 5 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جن میں سے چار کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے۔ متعدد افراد دھوئیں کی وجہ سے بے ہوش ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

امدادی آپریشن اور مشکلات

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اسے ‘تیسرے درجے’ کی آگ قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے۔ آپریشن میں درج ذیل وسائل حصہ لے رہے ہیں:

  • 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باوزر۔

  • پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • سندھ رینجرز کے دستے امدادی کاموں اور سامان کی حفاظت پر مامور ہیں۔

شدید تپش اور گیس لیکج کے باعث ہونے والے دھماکوں نے فائر فائٹرز کے لیے عمارت کے اندر داخل ہونا ناممکن بنا دیا۔ آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھی ٹوٹنے سے 2 اہلکار گر کر زخمی بھی ہوئے۔

عمارت کی حالت اور مالی نقصان

مارکیٹ ذرائع کے مطابق پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں موجود ہیں اور ابتدائی اندازوں کے مطابق اربوں روپے کا مال جل کر راکھ ہو چکا ہے۔ آگ کی شدت سے عمارت کے پلرز کمزور ہو گئے ہیں اور ایک حصہ گر چکا ہے، جس کے باعث پوری عمارت کے زمین بوس ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹریفک کی صورتحال

آتشزدگی کے باعث ایم اے جناح روڈ پر تبت چوک سے گارڈن چوک اور ماسٹن روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ٹریفک کو متبادل راستوں (جوبلی اور ٹینکر چورنگی) کی طرف موڑا گیا ہے۔

سیاسی و حکومتی ردعمل

  • گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تاجروں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

  • بلاول بھٹو زرداری نے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

  • وزیر داخلہ سندھ نے ایس ایس پی سٹی کو آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے شکوہ کیا کہ گورنر کے علاوہ کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

  • جماعت اسلامی کے رہنما منعم ظفر نے شہر میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں 2500 سے زائد آتشزدگی کے واقعات ہو چکے ہیں مگر کوئی حفاظتی میکنزم موجود نہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پانی کی کمی اور ٹریفک جام کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں وقفے وقفے سے مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ متاثرہ تاجروں نے دہائی دیتے ہوئے پلازہ کے باہر اذانیں دینا شروع کر دی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481