اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شکرپڑیاں کےمقام پردرختوں کی کٹائی،ماحولیاتی حلقوں میں تشویش

شکرپڑیاں کےمقام پردرختوں کی کٹائی،ماحولیاتی حلقوں میں تشویش

اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے مقام پر درختوں کی کٹائی، شہری اور ماحولیاتی حلقوں میں تشویش

اسلام آباد کے شکرپڑیاں علاقے میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے شہریوں اور ماحول دوست حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے وضاحت کی ہے کہ کسی بھی ماحول دوست درخت کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اور جو درخت کاٹے گئے ہیں ان کے بدلے تین نئے درخت لگائے جائیں گے۔

چک شہزاد پارک روڈ پر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی زمین سے ماحول دوست درختوں کی بلا اجازت کٹائی پر تحفظ ماحولیات ایجنسی (ای پی اے) نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹی نے لنک روڈ کے لیے تقریباً 2 ایکڑ رقبے سے درخت کاٹے، جس کے لیے نہ سی ڈی اے کی اجازت لی گئی تھی اور نہ ہی کسی دیگر متعلقہ ادارے کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ این آئی ایچ کی زمین سے بغیر اجازت درختوں کی کٹائی پر نوٹس لیا گیا ہے اور کسی بھی گرین ایریا پر تعمیراتی کام کے لیے ماحولیاتی جائزہ (اینوارنمنٹ اسسمنٹ) کروانا لازمی ہے۔ ای پی اے کی ترجمان ڈاکٹر زیغم نے بھی کہا کہ بغیر ماحولیاتی جائزے کے تعمیراتی سرگرمیوں پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وزیر ماحولیات نے مزید وضاحت کی کہ ہاؤسنگ سوسائٹی ماسٹر پلان کے مطابق قانونی ہے، تاہم ماحولیاتی جائزہ نہ کروانے کی صورت میں جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت میں شہریوں اور ماحولیاتی حلقوں کے درمیان ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481