اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وفاقی و صوبائی حکومتیں،مذہبی جماعتیں مل کر امن کا حل نکالیں

وفاقی و صوبائی حکومتیں،مذہبی جماعتیں مل کر امن کا حل نکالیں

 کراچی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذہبی جماعتوں کو بھی مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ میرا صوبہ متاثر ہو رہا ہے اور ہمیں ایک بار پھر انہی عناصر کا سامنا ہے جنہیں ماضی میں دوبارہ آباد کیا گیا۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت یا وزیراعظم دہشت گردی کے معاملے پر بلاتے ہیں تو وہ سو فیصد شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں، خیبرپختونخوا میں پہلے ہی 14 آپریشن ہو چکے ہیں اور صوبہ 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ جرگے کے ذریعے تمام سیاسی جماعتیں اس نکتے پر متفق ہو چکی ہیں کہ آپریشن نہیں بلکہ مذاکرات اور مشاورت سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نئی کارروائی کی کامیابی کی کیا ضمانت ہے، اور کہا کہ ماضی کی قربانیوں کی قدر نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گرد تنظیموں کی کھل کر مخالفت کرتی ہے، چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو یا کوئی اور گروہ۔ دہشت گردی ہم پر مسلط کی گئی اور اس کے ذمہ داروں کو بھی سامنے لانا چاہیے۔

انہوں نے سندھ اور پنجاب کی سیاست پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اب بھی بھٹو خاندان کی سیاست کی جھلک نظر آتی ہے، جبکہ پنجاب میں ماضی کا تجربہ خوشگوار نہیں رہا۔ کراچی میں اتوار کو تاریخی جلسے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے زبانی اجازت دی ہے تاہم تاحال تحریری نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی کے پی کو اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2018 سے اب تک دیگر صوبوں کو وسائل ملتے رہے لیکن خیبرپختونخوا کو نظرانداز کیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دونوں کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور سابق وزیراعظم کو طویل عرصے سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سازش کے تحت ختم کی گئی اور موجودہ جدوجہد کسی ایک جماعت نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ ضروری ہیں مگر برابری کی سطح پر ہونے چاہئیں، جبکہ ان کا اپنا کردار اسٹریٹ موومنٹ کو منظم کرنا ہے۔ 8 فروری کے حوالے سے تیاریوں کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اختیار پارٹی قیادت کے پاس ہے اور جہاں بھی عوامی حقوق کی بات ہوگی، پی ٹی آئی ساتھ دے گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481