اسرائیل نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے کیا گیا۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیرِاعظم، وزیرِ خارجہ اور صومالی لینڈ کے صدر نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جسے دونوں فریقین کے درمیان سفارتی تعلقات کو رسمی اور مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں خود کو صومالیہ سے الگ ریاست قرار دیا تھا، تاہم عالمی برادری کی اکثریت اب تک اسے صومالیہ کا حصہ ہی تصور کرتی ہے۔ اسرائیل کے اس فیصلے پر ملک کے اندر بھی ردِعمل سامنے آیا ہے، جہاں ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا چینل 12 کے مطابق مذکورہ اہلکار کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے اسرائیل کے فلسطینی ریاست سے متعلق دیرینہ مؤقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اب بھی صومالی لینڈ کو صومالیہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صومالی لینڈ اسرائیل کے ساتھ غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ منتقلی سے متعلق مشاورت میں شامل رہا ہے۔ اس فیصلے کو خطے کی سیاست میں ایک اہم اور متنازع پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
