لندن،شہزاد اکبر نے اپنے اوپر حملے سے متعلق حقیقت بتا دی-حملے کے نتیجے میں ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر زخم آئے۔
لندن میں سابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نامعلوم شخص کے حملے میں زخمی ہو گئے۔ حملے کے نتیجے میں ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر زخم آئے۔
شہزاد اکبر نے بیان میں بتایا کہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی زخمی تصویر کے حوالے سے پھیلائی جانے والی معلومات جعلی اور اے آئی سے بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والا شخص کنسٹرکشن ورکر یا کوڑا اٹھانے والا لگتا تھا اور حملے سے ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا، بلکہ عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔
شہزاد اکبر نے پولیس کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال وہ سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر نہیں کر سکتے، لیکن برطانوی قانون پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور پولیس نے یقین دلایا ہے کہ حملہ آور اور اس کے پیچھے کارفرما افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ انگلینڈ کو سب کے لیے محفوظ بنایا جائے، بشمول ان افراد کے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت مخالف کوششوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی کے رہنما مونس الٰہی نے حملے پر تشویش کا اظہار کیا اور شہزاد اکبر کی جلد صحتیابی کی خواہش کا اعلان کیا، ساتھ ہی برطانوی پولیس سے مجرم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کی امید ظاہر کی۔
واضح رہے کہ 2023 میں بھی لندن میں شہزاد اکبر پر مبینہ تیزاب حملہ ہوا تھا۔
