اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہندکو کا وارث شاہ۔۔ احمد حسین مجاہد

Picsart 25 12 21 12 55 31 780

ہندکو کا وارث شاہ۔۔ احمد حسین مجاہد

شیلے ڈیفنس آف پوئٹری میں کہتا ہے ۔۔۔
"شاعر ایک ایسا بلبل ہوتا ہے جو سب کی نظروں سے اوجھل جھٹ پٹے میں بیٹھا اپنی تنہائی کو خوش گوار بنانے کے لیے گاتا ہے”۔

میں جب کسی پرندے کو تنہائی میں گاتے دیکھتا ہوں تو احمد حسین مجاہد یاد آ جاتا ہے۔ وہ ایک مجلسی آدمی دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ گاتا ہے تو تنہائی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ شاعری کر رہے ہیں اور اپنی اپنی توفیق کے مطابق کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بہتر ادب تخلیق کریں لیکن سب کے نصیب میں بامراد ہونا کہاں لکھا ہوتا ہے۔ وہ تو بس کسی شاعر کبیر کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں اور پچھلی صفوں میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ غالب اپنے عہد کا واحد شاعر نہیں تھا، اس کے معاصرین کی ایک فوج ظفر موج تھی لیکن کیا ہوا، کچھ کا تو صرف تذکروں میں نام آیا اور باقی طاق نسیاں کا حصہ ہو گئے۔

ہندکو، جسے چند لوگ زبان کے بجائے بولی سمجھتے ہیں، انھوں نے شاید احمد حسین مجاہد کی "قینچی” اور "تہخدے خواب دی چھائی” نہیں پڑھی۔ جب کوئی بولی حسن اظہار کا ہفت خواں طے کر لیتی ہے تو وہ زبان بن جاتی ہے اور یہ کام احمد حسین مجاہد کے ہاتھوں انجام پانا تھا سو اسی کے ہاتھوں انجام پایا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ مجاہد نے جتنی آسانی اور سہولت کے ساتھ حسن اظہار تک کا سفر کیا ہے، کوئی کیا کر سکے گا۔

فرنچ دانشور برونٹییر کہتے ہیں کہ ایک کلاسیکی تخلیق اس لیے کلاسیکی کہلاتی ہے کہ اس میں انسان کی تمام قوتوں کو ایک وسیلہ اظہار میسر آتا ہے۔ تخیل عقل کی حدود سے تجاوز نہیں کرتا، جذبات ذوق سلیم کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتے، ذوق سلیم جذبات کی گرم جوشی کا گلا نہیں گھونٹتا، مضمون ہئیت کی خوبیوں سے استناد اور اعتبار حاصل کرتا ہے اور ہئیت مضمون کی دلچسپی سے محروم نہیں کرتی۔

احمد حسین مجاہد کی شاعری کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے برونٹییر نے یہ سب کچھ ایسی ہی شاعری کے لیے کہا ہے۔ ایک سچا فنکار حال سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا کہ اطمینان تو تخلیقیت کی موت ہے۔ وہ جس یوٹوپیا میں رہتا ہے اس کے اصول اور قوانین بیان کرتا ہے۔ وہ موجود پر تنقید اپنا حق سمجھتا ہے۔ احمد حسین مجاہد کی شاعری موجود پر عدم اطمینان کا اظہاریہ ہے۔ محبت کی فراوانی کی خواہش اسی عدم اطمینان کا ردعمل ہے۔ کتاب کا نام ہی اس عدم اطمینان کا اظہار ہے۔

مجاہد کے ہاں الفاظ اپنا خاندان بناتے ہیں۔ الفاظ ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہوتے ہیں کہ ان کے معانی میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ کسی شعر میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اجنبی ہو کہ اس طرح معنی کی ترسیل پر اثر پڑتا ہے۔ مجاہد لفظوں کے استعمال میں بڑی احتیاط برتتا ہے۔ احتیاط اچھا عمل ہے لیکن اس سے بعض اوقات خیال کی اوریجنیلٹی متاثر ہوتی ہے اور تفہیمی مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن عام طور پر اس کے الفاظ معنی کی ترسیل میں آسانی پیدا کرتے ہیں اور یہی شاعرانہ کمال ہے۔

بے نیازی بھی ایک شاعرانہ وصف ہے اور یہ وصف ہر شاعر میں ہونا چاہیے۔ فن فنکار کی ذات کا عکاس ہوتا ہے۔ فن کے ذریعے غیر محسوس طور پر وہ اپنی ذات کا اظہار کرتا ہے۔ مجاہد کی شاعری سے اس کی ذات کے وہ گوشے بھی عیاں ہوتے ہیں جنھیں وہ عام طور پر چھپاتا رہتا ہے۔ وہ ایک معصوم، ہمدرد، محبت کرنے والا، پرخلوص انسان ہے اور چاہتا ہے کہ دنیا حسن و خیر کی آماجگاہ ہو۔

مجاہد کے ہاں روزمرہ اور محاورہ کا ایسا تخلیقی استعمال جس آسانی اور سہولت کے ساتھ ہوا ہے، میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ وہ ایک سچا ہندکی ہے۔

ناسٹلجیا شاعری کا ایک اہم محرک ہے، مجاہد کی شاعری میں اس کی فراوانی ہے۔ اس کی نظم "کھیڈاں” تو فقط ناسٹلجیا ہے۔

ہر شخص اظہار ذات چاہتا ہے اس لیے اسے لوگوں سے کلام کرنا پڑتا ہے۔ مکالمہ کسی بھی معاشرے کا حسن ہے اور بعض اوقات دوسروں سے کلام کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ سامنے والا میری سطح سے بلند گفتگو کرتا ہے یا پست، تو پھر ابلاغ نہیں ہوتا۔ اس لیے خود کلامی کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہ ہر انسان کا مسئلہ ہے، مجاہد کا بھی ، سو اس کی شاعری کا بڑا حصہ خودکلامی پر مشتمل ہے۔ نظم "خط” خود کلامی کی خوبصورت مثال ہے۔

اربن اپنی کتاب "زبان اور حقیقت” میں کہتے ہیں کہ شاعری وہی کہتی ہے جو اسے کہنا ہوتا ہے اور جو کچھ اسے کہنا ہوتا ہے وہ پورے طور پر بیان نہیں ہو سکتا، اگر وہ پورے طور پر بیان ہو جائے تو شاعری نہیں رہتی۔ شاعری اپنے آپ سے گزر کر مابعدالطبیعیات بن جاتی ہے۔

یادیں، ایمانیات، توہمات، داستانیں، کہانیاں اور رسوم و رواج آدمی کے دل میں گھر کیے ہوتے ہیں، اسی لیے یہ ہمارے اظہار کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جاتی، یہ خود ہی راہ پاتے ہیں۔ مجاہد کے ہاں ان کا استعمال فراوانی سے ملتا ہے اور یہ بات کسی شاعر کی سچائی کا مظہر ہوتی ہے۔ نظم "سفر دی کہانڑیں” پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں کتنی آسانی سے یکجا ہوئی ہیں۔

مجاہد نے شعریت سے مملو "بولیاں” لکھی ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ "بولی” کی نفسیات اور شیڈز سے آگاہ ہے۔ اس کی بولیاں پنجاب کے ادبی حلقوں میں گونجتی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس نے ہندکو میں بولیاں لکھ کر اس زبان کو اور بھی ثروت مند کر دیا ہے۔

مجاہد کی شاعری میں بلا کی غنائیت ہے۔ غنائیت ایسی قوت ہے کہ جس میں شاعر کی ذات روپوش ہو جاتی ہے۔ الفاظ خود بخود گاتے ہیں، جس طرح کوئی پہیا تھوڑی دیر تک بیرونی قوت سے گھمایا جاتا ہے، پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ خود بخود گھومنے لگتا ہے۔ مجاہد کی شاعری کے ساتھ کچھ وقت تو شعوری طور پر گزارنا پڑتا ہے، پھر آدمی محو ہو جاتا ہے اور اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ وقت کدھر چلا گیا ہے۔ ایسی شاعری میں شاعر کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنے احساس، جذبے اور اپنی طبیعت کے قوانین کا پابند ہوتا ہے، یعنی وہ کسی بیرونی قوت کا غلام نہیں ہوتا۔ جسے یہ آزادی میسر ہو وہ بڑا خوش قسمت انسان ہے۔ یاد رہے کہ ہندکو کا پہلا غنائیہ یعنی "قینچی” لکھنے کا سہرا بھی احمد حسین مجاہد کے سر ہے۔ احمد کو بجا طور پر ہندکو کا وارث شاہ کہا جاتا ہے۔

محمد حنیف


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481