اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ایبٹ آبادافسوسناک گھریلو سانحہ،3 کمسن بچوں کی لاشیں برآمد

ایبٹ آبادافسوسناک گھریلو سانحہ،3 کمسن بچوں کی لاشیں برآمد

ایبٹ آبادافسوسناک گھریلو سانحہ،3 کمسن بچوں کی لاشیں برآمد

ایبٹ آباد کے علاقے کاغان کالونی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک گھر سے تین کمسن بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ میاں بیوی بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ مالی دباؤ اور گھریلو تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق 33 سالہ کاشف، جو آن لائن ٹریڈنگ سے وابستہ تھا اور قرض کے شدید دباؤ میں تھا، نے مبینہ طور پر اپنے تین بچوں اور اہلیہ کو زہریلی چیز دے کر خودکشی کی کوشش کی۔ جاں بحق بچوں کی عمریں 7 سال، 4 سال اور ایک سال بتائی جا رہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو زہر دے کر قتل کیا گیا جبکہ خاتون شیزہ کے سر اور گردن پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ واقعے کے بعد اہلِ محلہ کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور بچوں کی لاشوں سمیت میاں بیوی کو تشویش ناک حالت میں ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

ملزم کے قریبی رشتے دار کے مطابق کاشف قرض کی ادائیگی کے حوالے سے شدید ذہنی دباؤ میں تھا اور اس پر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم واجب الادا تھی۔ کاشف کے موبائل فون سے ملنے والے آخری اسٹیٹس میں اس نے خود کو قصوروار قرار دیتے ہوئے بچوں کی بے گناہی کا ذکر کیا اور ویڈیوز دیکھنے کی اپیل کی۔

کاشف کے کزن کے مطابق دوپہر کے وقت ایک مشتبہ فون کال موصول ہوئی جس کے بعد گھر پہنچ کر دروازہ توڑا گیا تو اندر انتہائی افسوسناک منظر تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ رشتے داروں کے مطابق میاں بیوی کے درمیان گھریلو جھگڑوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ واقعے نے علاقے میں شدید صدمے اور خوف کی فضا قائم کر دی ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481