اسلام آباد/راولپنڈی: توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دونوں پر 10،10 سال قید اور پی پی سی کی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال قید کی سزا بھی شامل ہے۔
عدالت نے ہر ملزم پر ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ سپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا، تاہم ملزمان کے وکلا عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
یاد رہے کہ 13 جولائی 2024 کو نیب نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا تھا اور 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ فرد جرم 12 دسمبر 2024 کو عائد ہوئی، جبکہ کیس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایف آئی اے کو منتقل ہوا۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی ولی عہد سے ملنے والی بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروائی اور کم قیمت ظاہر کر کے اپنے پاس رکھ لی۔ جیولری سیٹ میں بریسلٹ، انگوٹھی، جھمکے اور نیکلس شامل تھے، جن کی اصل مالیت 7 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد تھی۔
نیب کی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے دو اشیاء کی قیمت 58 لاکھ روپے لگوائی اور 29 لاکھ روپے جمع کرائے، جبکہ باقی تحائف کی درست قیمت چھپائی گئی۔ کیس کی سماعت کے دوران کل 21 گواہان پیش ہوئے جن میں سابق ملٹری سیکرٹری، پرائیویٹ اپریزر اور سابق پرنسپل سیکرٹری شامل تھے۔
یہ کیس تقریباً ایک سال تک اڈیالہ جیل میں ٹرائل کے بعد مکمل ہوا، جس میں گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے اور جرح مکمل ہوئی۔
