اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شکیل کاسیروی کی ”قلبِ بینا“: ایک سماجی و اخلاقی مکالمہ

Picsart 25 11 26 10 06 08 406

”قلبِ بینا“ بنیادی طور پر اس کیفیت کا نام ہے جہاں انسان اپنی روزمرہ زندگی کو صرف واقعات کی سطح پر نہیں دیکھتا بلکہ ان کے پیچھے موجود اخلاقی اور انسانی رشتوں کو بھی محسوس کرتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی یہ تصنیف اسی زاویے سے فرد، معاشرت اور ذمہ داری کے موضوعات سے مکالمہ کرتی ہے۔ اس کا اندازِ تحریر شائستہ اور سنجیدہ ہے، جو قاری کو اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ دل کی آنکھ ہمارے فیصلوں، رویّوں اور تعلقات میں کس طرح خاموشی سے کار فرما رہتی ہے۔ یہی سادگی اس کتاب کی اصل قوت ہے، جہاں بڑے نظریات انسانی تجربے کی سطح پر اتر آتے ہیں اور قاری کو خود احتسابی کا ایک سنجیدہ فکری مکاشفہ عطا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی ”قلبِ بینا“ محض مضامین یا کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی شعور، اخلاقی فہم اور سماجی رشتوں کی ایک مربوط تصویر ہے۔ اس میں فرد کی ذاتی ذمہ داریاں، خاندانی تعلقات، سماجی دباؤ اور اخلاقی انتخاب کو اس طرح برتا گیا ہے کہ ہر تحریر قاری کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی گوشے سے جوڑ دیتی ہے۔ اس کی تحریریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ سماج صرف اداروں اور قوانین سے نہیں بنتا بلکہ چھوٹے چھوٹے انسانی فیصلوں، نیک اعمال اور ضمیر کی معمولی سی جنبش سے وجود میں آتا ہے۔ اسی اخلاقی اور سماجی زاویے کو ڈاکٹر شکیل کاسیروی اپنے کالموں میں عملی صورت دیتے ہیں۔

ہاتھ کا لکھا کام آ گیا“ جیسے کالم میں ایک تحریر کے ذریعے ایک خاندان کی عزت اور ایک لڑکی کے مستقبل کا محفوظ ہو جانا محض واقعہ نہیں بلکہ تحریر کی سماجی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ ”عزت جیتے جی“ میں معاشرتی منافقت اور مردہ پرستی پر ایک ٹھہرا ہوا مگر مؤثر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ”نیکی کا پودا“ انسانی عمل کے دیرپا اخلاقی ثمرات کو سامنے لاتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ ایثار وقتی جذبہ نہیں بلکہ نسلوں تک منتقل ہونے والی قدر ہے۔ ”کلامِ الٰہی کی برکت“ میں عقیدہ، یقین اور روحانی تجربہ روزمرہ زندگی سے جڑ کر ایک سماجی حقیقت بن جاتا ہے۔ ”سو روپے کا نوٹ“ اور اس نوع کے دیگر کالم فرد کی لغزش، خوف اور ضمیر کی بیداری کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس اخلاقی کشمکش کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ یوں یہ کالم محض اظہار نہیں بلکہ اخلاقی شہادت (Moral Testimony) بن جاتے ہیں۔
”قلبِ بینا“ کا فکری مرکز انسانی حساسیت اور شعوری توازن (Conscious Equilibrium) ہے۔ یہ تصور فرد کے داخلی شعور اور اس کے سماجی رویّوں کے درمیان توازن کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہی نکتہ جان رالز (John Rawls) کے نظریۂ انصاف (Theory of Justice) سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، جہاں انصاف صرف عدالتی نظام یا قانونی فریم ورک تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی تعلقات اور اجتماعی ذمہ داری میں اپنی معنویت پاتا ہے۔
یہی فکری سمت ژاں پیاجے (Jean Piaget) کے اخلاقی ارتقا (Moral Development) کے تصور سے بھی جڑی ہوئی ہے جہاں فرد کا اخلاقی شعور سماجی تعامل (Social Interaction) کے ذریعے نشوونما پاتا ہے۔ اُردو ادب میں غالبؔ اور میر تقی میرؔ نے بھی انسانی رشتوں، احساسِ زیاں اور اخلاقی کشمکش کو روزمرہ تجربے کے آئینے میں دیکھا ہے، اور ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی نثر اسی روایت کا جدید تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ ”قلبِ بینا“ میں ایثار اور قربانی کا تصور بار بار اُبھرتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل کاسیروی کے ہاں زندگی کی قدر اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ انسان دوسروں کے لیے کیا چھوڑ جاتا ہے۔ یہ فکر البرٹ شوائزر (Albert Schweitzer) کے فلسفۂ احترامِ حیات (Reverence for Life) سے ہم آہنگ ہے، جہاں انسان کا اخلاقی مقام اس کی لفاظی کی بجائے اس کے عمل سے پہچانا جاتا ہے۔
اسلوب کے اعتبار سے ”قلبِ بینا“ کی زبان سادہ مگر بامعنی ہے۔ یہ زبان ہابرماس (Jürgen Habermas) کے نظریۂ ابلاغی عمل (Theory of Communicative Action) کی یاد دلاتی ہے، جہاں گفتگو محض اطلاع نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اخلاقی مکالمے کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہی وصف ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی تحریروں کو اخبارات اور ادبی جرائد کے لیے موزوں بناتا ہے، جہاں تحریر کو دل اور ذہن دونوں سے مخاطب ہونا پڑتا ہے۔
”قلبِ بینا“ ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی ایک وقیع کتاب ہے جو ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ معاشرہ شور، نعروں اور وقتی جذبات سے نہیں بلکہ احساس، ذمہ داری اور خاموش اخلاقی فیصلوں سے بنتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل کاسیروی کی تحریریں قاری کو سادہ مگر گہرا سبق دیتی ہیں کہ اگر دل دیکھنے کی صلاحیت کھو دے تو آنکھوں کی بینائی بھی بوجھ بن جاتی ہے۔ یہ تحریریں فرد کو رک کر سوچنے، اپنے رویّوں پر نظر ڈالنے اور معاشرتی رشتوں کو نئے سرے سے سمجھنے کا حوصلہ دیتی ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی ادبی اور سماجی کامیابی ہے۔

ڈاکٹر حسنین ساحر 

بھارہ کہو، اسلام آباد


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481