Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں این او سی جاری

بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں این او سی جاری

اسلام آباد: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں ابتدائی تیاری اور مشاورتی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے۔

پاکستان کرپٹوکونسل کے مطابق یہ این او سی مکمل آپریٹنگ لائسنس نہیں ہے، بلکہ ریگولیٹڈ اور لائسنس یافتہ ماحول کی طرف پہلا قدم ہے۔

PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ این او سی سے صارفین کے تحفظ اور مالی شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کرپٹو کے صارفین کی تعداد 3 سے 4 کروڑ کے درمیان ہے اور سالانہ ڈیجیٹل ایسیٹ ٹریڈنگ کا حجم 300 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ این او سی فریم ورک کے آغاز سے مالی نظم اور جدت کے عزم کا ثبوت ملتا ہے۔ PVARA دنیا کی پہلی اے آئی سے چلنے والی ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بن رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اتھارٹی نے ایویلیوایشن سسٹم، ریکروٹمنٹ پورٹل اور اے آئی اسسٹڈ ٹول متعارف کرا دیا ہے، جس سے نگرانی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک کے آئندہ مراحل میں مقامی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رہے گی تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل مارکیٹ میں شفافیت اور ذمہ دارانہ طریقہ کار کو یقینی بنایا جا سکے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481