Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14سال قیدبامشقت کی سزا

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14سال قیدبامشقت کی سزا

 

 راولپنڈی: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت 12 اگست 2024 کو شروع ہونے والی کارروائی تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ اس دوران ملزم پر چار اہم الزامات کی سماعت کی گئی جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو نقصان پہنچانا شامل تھا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ طویل قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصوروار قرار پایا اور سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے ملزم کو دفاعی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے اور اپیل کا حق بھی برقرار رکھا۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ تعلقات اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور کور کمانڈر پشاور بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا نام فیض آباد دھرنے کے دوران حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدے میں بھی سامنے آیا تھا۔

2018 میں پی ٹی آئی کی حکومت نے انہیں دوبارہ سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا، جبکہ بعد ازاں ان پر سیاسی انتقام اور مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے الزامات بھی لگے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی حلقوں نے بھی ان پر سیاسی مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481