پشاور میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام بڑے جلسے کا انعقاد ہوا جس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سمیت مختلف سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جلسے سے علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، شاہد خٹک، مینا خان، تیمور سلیم جھگڑا، عاطف خان، مصطفیٰ نواز کھوکھر، شیر علی ارباب اور معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی خطاب کیا۔
محمود خان اچکزئی نے خطاب میں کہا کہ ملک اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق حق اور باطل کی کشمکش کا آخری دور شروع ہو گیا ہے اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سمیت عمران خان وہ قوتیں ہیں جو جمہوری اصولوں پر ڈٹ کر کھڑی ہیں، اسی وجہ سے مخالفین کے حواس خطا ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جو شخص آئین کو توڑتا ہے وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور ہوتا ہے۔ اچکزئی کا کہنا تھا کہ خطے میں وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جنہوں نے جنگ اور تصادم کا راستہ چھوڑ دیا، لہٰذا ملک کو آگے بڑھانے کے لیے جنگی جنونیت ختم کرنا ہوگی۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام ہمارے بھائی ہیں اور دونوں اقوام ایک مضبوط رشتے میں بندھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ایک جامع قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں جج، جرنیل، علما اور تمام سیاسی قیادت شریک ہو۔ ان کے مطابق قومی مفاہمت ہی وہ راستہ ہے جس سے ریاست کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں ہر شہری آزاد ہو اور آئین و قانون کی بالادستی قائم ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ ہی حقیقی ریاست کی علامت ہے۔
