اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال منتقل

مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال منتقل مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال منتقل

 

مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا، کراچی کے نجی اسپتال منتقل

معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمان ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے باعث کراچی کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کر دیے گئے ہیں، جہاں ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق مفتی منیب الرحمان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، جبکہ انہوں نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرض ڈینگی سے متاثرہ مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ وائرس کا لاروا صاف اور کھڑے پانی میں تیزی سے افزائش پاتا ہے، اس لیے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے اور لاروا تلف کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے اسپتالوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ڈینگی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

دنیا بھر میں ڈینگی وائرس کی چار اقسام پائی جاتی ہیں، اور عالمی سطح پر ہر سال 50 سے 100 ملین افراد اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً ایک فیصد مریضوں میں بیماری پیچیدہ صورت اختیار کر سکتی ہے، تاہم بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی ڈینگی متعدد علاقوں میں پھیل چکا ہے اور احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

این آئی ایچ کے مطابق ڈینگی کی پیچیدگی کی صورت میں شرح اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ علامات میں اچانک بخار، شدید جسمانی درد، گلہ خراب ہونا، سر درد، متلی اور قے شامل ہیں۔ عموماً مریض کو 3 سے 14 روز تک زیرِ علاج رکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مریض کو الگ رکھنا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481