اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نواز شریف چیف آف ڈیفنس فورسزکے نوٹیفکیشن میں رکاوٹ نہیں

نواز شریف چیف آف ڈیفنس فورسزکے نوٹیفکیشن میں رکاوٹ نہیں

نواز شریف چیف آف ڈیفنس فورسزکے نوٹیفکیشن میں رکاوٹ نہیں، یہ تاثر غلط ہے: رانا ثنااللہ

پارلیمنٹ ہاؤس میں نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی گفتگو کو خواہ مخواہ اس معاملے سے جوڑا جا رہا ہے، نواز شریف کی گفتگو کسی اور حوالے سے ہوئی تھی، نواز شریف نے اس دن جو بات کی اس کا پس منظر کچھ اور تھا، جو بھی آئینی ترامیم ہوئی نواز شریف کی بحیثیت پارٹی ہیڈ منظوری سے ہوئی ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کے زیرغور ہونے میں اور فیصلہ ہونے میں فرق ہوتا ہے، مختلف آپشن مختلف اوقات میں زیرغور ہوتے ہیں، جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو ان پر آپ کوئی حتمی بات نہیں کرسکتے، سی ڈی ایف کا ایک نیا ادارہ بننے جا رہا ہے، وہ بہت اہم ادارہ ہوگا، ان ہی معاملات کوپوری طرح سے دیکھتے ہوئے نوٹیفکیشن عجلت میں نہیں ہونا چاہیے اور نہ عجلت میں ہوگا۔

‘نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں’،27 ویں ترمیم کےتحت چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف کے عہدے2030 تک ساتھ چلیں گے، ماہرقانون
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد جتنا بھی ٹائم اس کے لیے ضروری ہے اس کے مطابق نوٹیفکیشن ہوگا، آئین کے بعد لاء اور لاء کے بعد پھر رولز فریم ہوتے ہیں، یہ ساری چیزیں احتیاط سے کی جانے والی ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ جو آئینی ترمیم ہوئی ہے اس کے مطابق جس دن نوٹیفکیشن ہوگا اس دن سے اس مدت کا تعین ہوگا، نوٹیفکیشن کے بعد اس کی مدت 5 سال ہوگی۔

پی ٹی آئی کے حوالے سے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی معاملے کو دھمکی کے ساتھ اور احتجاج کے ساتھ کرنا چاہیں گے تو قانون کا نفاذ بھی اسی انداز سے ہوگا، اگر یہ بھارتی چینلز پر جا کر اس طرح کی ہرزہ سرائی کریں اور پھر دھمکی دیں تو پھر قانون کے مطابق جواب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو چاہیے تھا کہ معاملہ فہمی سے کام لیتے، پی ٹی آئی کا وفد اسپیکر کے پاس آیا تھا میں بھی وہاں موجود تھا، ہم نے انہیں کہا تھا کہ وزیراعظم صاحب کو آنے دیں پھر ہم یہ مسئلہ ان کے سامنے رکھیں گے، پی ٹی آئی کا وفد ہمارے پاس سےگیا ہی تھا کہ وزیراعلیٰ کی دھمکی آگئی، ان کاموں کے لیے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو وہ کرتے آئے ہیں یا کر رہے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481