اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

10 گھنٹے بعد بھی مین ہول میں گرنے والا بچہ نہ مل سکا

10 گھنٹے بعد بھی مین ہول میں گرنے والا بچہ نہ مل سکا

 

 کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ تاحال نہیں مل سکا، واقعے کو دس گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کی ناکامی کے بعد شہری شدید مشتعل ہوگئے اور احتجاج کرتے ہوئے متعدد سڑکیں بلاک کردیں۔

واقعہ رات تقریباً 11 بجے پیش آیا جب 3 سالہ ابراہیم ولد نبیل اپنی فیملی کے ساتھ قریب ہی واقع ڈپارٹمنٹل اسٹور سے نکل رہا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور مین ہول کے قریب کھڑی موٹرسائیکل کے پاس پہنچتے ہی بغیر ڈھکن والے گٹر میں جا گرا۔

ابتدائی طور پر ریسکیو ٹیموں نے تلاش شروع کی، تاہم مناسب مشینری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی مؤثر ثابت نہ ہوسکی۔ ریسکیو حکام کے مطابق کھدائی کے لیے درکار مشینری موجود نہیں تھی اور سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔ کام شروع کرنے والی مشینیں بھی کچھ دیر بعد موقع چھوڑ گئیں، جس پر اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر کھدائی شروع کروائی۔

بچے کے والد اور دادا نے انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابراہیم گھر کا اکلوتا بیٹا ہے اور ریسکیو کارروائی انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا کام تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر بچے کی والدہ صدمے کی حالت میں ہے اور بے ہوش ہونے کے بعد انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نیپا چورنگی سے حسن اسکوائر، جامعہ کراچی اور گلشن چورنگی جانے والے راستے بند کردیے۔ مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کیں، پتھراؤ بھی کیا اور میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ ایک نجی چینل کی ٹیم کو کچھ دیر کے لیے یرغمال بھی بنایا گیا، مظاہرین کا شکوہ تھا کہ "میڈیا رات بھر موجود تھا مگر انتظامیہ نہیں پہنچی، میڈیا کا فائدہ کیا؟”

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے پر انکوائری کا اعلان کیا، جبکہ ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہونے کی ہدایت کی ہے۔ واٹر کارپوریشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور KMC کا عملہ بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کراچی میں کھلے مین ہول اور نالوں میں گر کر 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481