اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گورنر راج کے حوالے سےاے این پی کا مئوقف آگیا

گورنر راج کے حوالے سےاے این پی کا مئوقف آگیا گورنر راج کے حوالے سےاے این پی کا مئوقف آگیا

 خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے حوالے سے جاری بحث پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں پارٹی کو شامل نہ کیا جائے۔ اے این پی کے مرکزی رہنماؤں نے واضح کیا کہ پارٹی جمہوری تسلسل کی حامی ہے اور کسی بھی غیر معمولی اقدام کا حصہ نہیں بنے گی۔

اے این پی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت کی بنیاد خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد اور انسانی وقار کے اصولوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم نے ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف باوقار موقف اپنایا، جبکہ اے این پی 1986 سے جمہوری سوشلزم اور وفاقی نظام کی مضبوط آواز ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پارٹی امن، برداشت اور ہم آہنگی کے نظریے پر قائم ہے اور آج بھی پاکستان میں جمہوری استحکام اور ترقی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب اے این پی کے مرکزی ترجمان احسان اللہ خان نے صوبے میں گورنر راج کی بحث پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا نام گورنر خیبر پختونخوا کے لیے پیش کیے جانے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ ان کے مطابق امیر حیدر ہوتی آئندہ انتخابات میں اے این پی کے اہم امیدوار ہیں اور پارٹی کے ساتھ اب تک اس سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی منتخب اداروں کی معطلی کی قائل نہیں اور صوبے کے مسائل کسی عارضی انتظام کی بجائے بہتر گورننس سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

احسان اللہ خان نے یہ بھی کہا کہ حالیہ انتخابات میں 32 لاکھ ووٹ پی ٹی آئی کو ملے تھے جبکہ 70 لاکھ ووٹ ان کے خلاف پڑے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اکثریت نے ان کے بیانیے اور قیادت کی رہائی سے اتفاق نہیں کیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481