اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالعدم تنظیم کے عہدیداروں کے 23ارب40کروڑ روپےکے اثاثے منجمد

کالعدم تنظیم کے عہدیداروں کے 23ارب40کروڑ روپےکے اثاثے منجمد

 

کالعدم تنظیم کے عہدیداروں کے 23ارب40کروڑ روپےکے اثاثے منجمد-وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اجلاس میں کومبنگ آپریشنز کو مستقل جاری رکھنے کا حکم دیا۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کالعدم تنظیم کے عہدیداروں کے 23 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ تنظیم کے 92 بینک اکاؤنٹس اور تمام ڈیجیٹل اکاؤنٹس بھی جام کر دیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے کالعدم تنظیم کے 9 فنانسرز کے خلاف بھی مقدمات درج کیے، اور انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا انفرااسٹرکچر ختم کر دیا۔ کالعدم تنظیم کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، گولیاں، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر سامان برآمد ہوا۔ احتجاج کے نام پر نفرت اور فتنہ پھیلانے والی فنڈنگ کو بھی روکا گیا۔

کالعدم انتہا پسند جماعت کے خلاف مجموعی طور پر 32 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف مواد کے 31 مقدمات بھی درج کیے گئے۔ پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں میں کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے وفاق سے تعاون طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق صوبے میں مساجد اور آئمہ کرام میں 61 ہزار سے زائد فارم تقسیم کیے گئے، اور 50 ہزار سے زائد آئمہ کرام نے رجسٹریشن کر کے امن اور قانون کے ساتھ تعلق مضبوط کیا۔ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کی شرح 82 فیصد تک پہنچ گئی، جس پر وزیر اعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کیا۔

امن کی مضبوطی کے لیے پانچ بڑے وفاق المدارس نے مساجد اور آئمہ کرام کی رجسٹریشن پر اتفاق کیا، اور وزیر اعلیٰ نے آئمہ کرام کو پریشان نہ کرنے اور ان کے احترام کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ آئمہ کرام نماز پڑھاتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ چندے کے لیے ہاتھ پھیلائیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میں وال چاکنگ برداشت نہیں کی جائے گی، اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو پابندی کے مستقل نفاذ کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔

انہوں نے اسلام آباد دھماکے کے پیش نظر سرویلنس بڑھانے کی ہدایت کی، جس میں ہر ضلع میں ڈرون سرویلنس اور ہراسانی کے واقعات کی نگرانی شامل ہے۔ پنجاب حکومت نے عوام میں انتہا پسندی کو مسترد کرنے پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481