اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم

1 شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم

بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس غلام مرتضیٰ مجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری بھی شامل تھے۔

عالمی میڈیا کے مطابق بنگلادیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں شیخ حسینہ کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا۔ اسی کیس میں سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال کو بھی موت کی سزا سنائی گئی، جبکہ سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا دی گئی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایک لیک آڈیو کال سے ثابت ہوا کہ شیخ حسینہ نے طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے۔ عدالت کے مطابق انہوں نے طلبہ کے جائز مطالبات سننے کے بجائے صورتحال کو مزید خراب کیا اور تحریک کو سختی سے دبانے کے لیے توہین آمیز اقدامات کیے۔

فیصلے کے مطابق شیخ حسینہ اور اسد الزماں کمال متعدد نوٹسز کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور تاحال مفرور ہیں۔ عدالت نے اسے ان کے جرم کے اعتراف کے برابر قرار دیا۔ المامون واحد ملزم تھے جو عدالت میں موجود تھے اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کیا۔

شیخ حسینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے ڈرون، ہیلی کاپٹر اور بھاری ہتھیار استعمال کرنے کے احکامات دے کر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ انہیں چھ افراد کو زندہ جلانے کے مقدمے میں بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ ساتھ ہی عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی بھی عائد کر دی گئی۔

فیصلے کے بعد بنگلادیش میں شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر عوام نے احتجاج کیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی موجودہ یا سابق سربراہِ حکومت کے خلاف اس ٹریبونل نے ایسا فیصلہ سنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیس کی سماعت 23 اکتوبر کو مکمل ہوئی تھی، جس کے بعد چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام اور اٹارنی جنرل محمد اسد الزماں نے حتمی دلائل پیش کیے۔

حکومت کے خاتمے کے بعد سے شیخ حسینہ بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ استغاثہ نے ان کے لیے سزائے موت کی درخواست دائر کی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں ممکنہ پرتشدد حالات کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ عوامی لیگ نے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ شیخ حسینہ پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے الزامات تھے، اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ان مظاہروں میں تقریباً 1400 لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481