خیر ہو
گاؤں کی خیر، اور مکینوں کی خیر ہو
زیرِ عتاب میرے عزیزوں کی خیر ہو
اہلِ ہوس کے ساتھ ہیں اب اہلِ جبر بھی
جُھگّی کی خیر، مولا! غریبوں کی خیر ہو
(صفحہ 116)
یہ ایک نظم ہے "جہان ابد” سے، جس کو راشد عباسی نے امید ، یقین ، کرب ، دعا، نصحیت ، تنہائی ، اور نہ جانے کس کس چشمے کا پانی دے کر سینچا ہے۔ اور صرف پانی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہمہ جہتی پانی کے ساتھ سوز جگر اور فکری بالیدگی کے نور سے بھی نکھارا ہے۔
سوا سو صحافت پر مشتمل کتاب میں انہوں نے پون سینکڑہ نظمیں داغی ہیں اور ہر نظم دوسری نظم کے ساتھ یوں مربوط نظر آتی ہے کہ ابتدا میں ان کے اعتراف جرم کی سند بن جاتی ہے کہ "میں نے یہ نظمیں عام آدمی کے لیے لکھی ہیں”۔
عصر حاضر کی شدید مادی حبس میں روحانی پھوار اگر لفظوں اور قلموں سے مسلسل برسنا شروع ہو جائے تو انسانیت کا خاتمہ مزید کچھ صدیوں تک مؤخر ہو جائے گا۔ اور راشد عباسی انسانیت کی بقا کے لیے اسی قلمی و فکری رم جھم کے امین ہیں کیونکہ وہ مرض کو سمجھ چکے ہیں اور اس کا اظہار بھی اسی مجموعے میں کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔
عجب اک موسمِ گِریہ ہے اور ہونٹوں پہ تالے ہیں
کہاں اب اہلِ کربل، سب یہاں پر کُوفے والے ہیں
(صفحہ 127)
راشد عباسی یہاں بتا رہے ہیں کہ لفظ اور قلم کے تقدس کے امین ہمیشہ قلیل ہی ہوتے ہیں لیکن انسانی روح کی طرح ہمیشہ کثیر پر بھاری ہی رہتے ہیں۔ اور اسی کربلائی فکر کو یہ یوں پروان چڑھا رہے ہیں ۔۔۔
عہد زوال
چپ کرا دیے گئے ہیں سب ہی بولنے والے
خود ہی راز ٹھہرے ہیں، راز کھولنے والے
رُل گئے ہیں مِٹّی میں، اہلِ صِدق بستی کے
مسندوں پہ بیٹھے ہیں زہر گھولنے والے
(صفحہ 124)
ان فکری باراتوں سے قبل وہ حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کے ساتھ کمال سخن وری کے انداز میں عقیدت کو پروتے ہوئے ایک بافیض شاگرد کا اظہار کرتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ ہاں بافیض سے یاد آیا کہ اپنے ظاہری اساتذہ کے ساتھ ساتھ اپنے فکری اساتذہ یعنی فیض و اقبال کو بھی اس جہان ابد میں سجاتے نظر آئے ہیں۔
او مرشد فیض بتا پیارے
یہ ظلم و ستم کے کوہ گراں
بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں یہاں
کب تاج اچھالے جائیں گے؟
کب تخت گرائے جائیں گے ؟
او مرشد فیض بتا پیارے
وہ روز کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پر لکھا ہے
کب دیکھیں گے؟
جب کوئی نہ ہو گا دھرتی پر
تب دیکھیں گے؟
(صفحہ 110)
عام آدمی کے لیے رزق سخن ، فہم سخن ، داد سخن اور نہ جانے کیا کیا سجائے ہوئے راشد عباسی کائنات کی عظیم ترین نعمت ماں کو سخن روح پیش کرتے ہوئے اپنی اس کتاب کو معراج پر یوں لے جاتے ہیں ۔۔۔۔
مائیں
بچوں سے اک پل بھی دور نہ رہنے والی
مائیں آخر اک دن کیسے مر جاتی ہیں؟
اُن کا کمرہ ہی بس خالی کب ہوتا ہے ؟
گھر کا اِک اِک گوشہ ویراں کر جاتی ہیں
(صفحہ 78)
کتاب تو بہت کچھ اور بھی کہنے پر اکسا رہی ہے لیکن ماں کا تذکرہ ابتدا ہو یا انتہا اس کے بعد کچھ لکھنا بے ادبی سمجھتا ہوں۔ بہرحال خاتمے پر اتنا ضرور کہتا ہوں کہ راشد عباسی میرے کہساروں کا جہاں علمی مان ہے وہاں پر اب اس کی "جہان ابد” پڑھنا اور اس کو محسوس کرنا بھی کہیوں کا ارمان ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے مثبت ارمانوں کو پورا فرمائے اور راشد عباسی کی علمی ادبی کاوشوں کو مزید بلندیوں سے سرفراز فرمائے۔۔ آمین یارب العالمین و رب رحمتہ اللعالمین

(ڈاکٹر یاسر حسین ستی الخیری)
ناڑوٹہ شریف
