بشریٰ بی بی سابق انٹیلی جنس سربراہ کے لئے کام کرتی تھیں-وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید کے لیے کام کرتی تھیں اور ان کی دی گئی معلومات چند دنوں میں درست ثابت ہو جاتی تھیں۔
جیو نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کو درست قرار دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے کنٹرول میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جنرل عاصم منیر کی رپورٹ پر عمران خان ناراض ہو کر انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ طاقت حاصل کرنے کے لیے ایک خاتون کو لانچ کیا گیا اور چار پانچ سال کی لوٹ مار منصوبے کے تحت کی گئی، جس میں عمران خان کو حصہ ملتا تھا اور باقی رقم بیرون ملک چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے بھی پلان کے تحت ہوئے اور پنجاب کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ملک کی کمانڈ جادو ٹونے کے حوالے کر دی گئی تھی اور اگر بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو سنگین خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔
اگر چاہیں تو میں اسے سوشل میڈیا یا یوٹیوب کے لیے 70 کریکٹر کا شارٹ ورژن اور ریلیونٹ ہیش ٹیگز بھی تیار کر دوں۔
