اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ بے نقاب

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ بے نقاب

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک ایسا کردار موجود رہا جو عوامی منظرنامے پر کم نظر آیا، مگر پسِ پردہ اس کا اثر و رسوخ نہایت اہمیت رکھتا تھا۔ یہ کردار ہے بشریٰ بی بی — سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ اور روحانی مشیر — جن کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی سیاسی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔جریدے نے لکھا کہ بشریٰ بی بی سے عمران خان کی تیسری شادی نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ حکمرانی کے انداز پر بھی سوالات اٹھائے۔ 2018 میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کا کردار تیزی سے ملکی سیاست کی بحثوں کا محور بن گیا، اور مخالفین نے ان پر حکومتی فیصلوں میں حد سے زیادہ مداخلت کا الزام عائد کیا۔رپورٹ میں ایک سابق کابینہ رکن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم ہاؤس پر بشریٰ بی بی کا مکمل اثر تھا، جبکہ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کے مطابق اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر ان کی رائے حاوی رہتی تھی، جس کی وجہ سے عمران خان کی فیصلہ سازی میں "روحانی مشاورت” کا پہلو نمایاں رہا، اور وہ اپنا اصلاحاتی ایجنڈا مکمل طور پر نافذ نہ کر سکے۔گھر میں غیر معمولی رسومات کے دعوےرپورٹ کے مطابق عمران خان کے ڈرائیور اور سابق گھریلو عملے نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد گھر میں عجیب و غریب رسومات کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں سر کے گرد کچا گوشت گھمانا، لال مرچیں جلانا، روزانہ سیاہ بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکوانا، اور زندہ سیاہ بکرے منگوانا شامل تھا۔ علاقے کے قصائی نے بھی ایسے احکامات کی تصدیق کی۔جہانگیر ترین اور پارٹی میں پھیلا خوفدی اکانومسٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کے رشتے دار نے جہانگیر ترین کو بتایا کہ وہ کالے جادو سے متعلق رسومات کرتی ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو ناراض ملازمین کی افواہیں قرار دیا، تاہم بعد ازاں بشریٰ بی بی نے ایک دعوت میں خود جہانگیر ترین سے کہا کہ انہوں نے سفید کپڑے اس لیے پہنے ہیں تاکہ انہیں "کالے جادو والی عورت” نہ سمجھا جائے۔ترین کے مطابق اسی رات انہیں محسوس ہوا کہ پی ٹی آئی میں ان کا مستقبل محفوظ نہیں، اور کچھ عرصے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پارٹی کے اندر یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ بشریٰ بی بی پر تنقید کرنے والا کسی بھی وقت پارٹی سے نکالا جا سکتا ہے۔عون چوہدری واقعہ اور "روحانی مشاورت” سے منسوب فیصلےبرطانوی جریدے کے مطابق عون چوہدری بھی اسی پسِ پردہ اثر و رسوخ کے باعث زیرِ عتاب آئے۔ عمران خان نے انہیں حلف برداری سے چند گھنٹے قبل پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی، جس کے بعد اگلے ہی دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان اہم فیصلوں سے قبل بشریٰ بی بی سے مشورہ کرتے اور مختلف شخصیات کی تصاویر بھیج کر چہرہ شناسی کرواتے تھے۔ ایک موقع پر فلائٹ صرف اس وجہ سے چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی کہ بشریٰ بی بی کے مطابق اس وقت پر اڑان لینا موزوں نہیں تھا۔حساس ادارے اور بشریٰ بی بی کا معاملہدی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستان کے حساس ادارے کی بشریٰ بی بی میں دلچسپی ان کی خفیہ شادی کے فوراً بعد ظاہر ہوئی۔ اگرچہ آئی ایس آئی نے یہ رشتہ نہیں کروایا تھا، مگر اشارے موجود تھے کہ ادارہ اس تعلق سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔رپورٹ کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید معلومات ایک افسر کے ذریعے ایک پیر تک پہنچاتے تھے، جو وہ معلومات آگے بشریٰ بی بی کو دیتا تھا۔ وہی معلومات عمران خان کے سامنے روحانی پیش گوئیوں کے طور پر پیش کی جاتیں اور درست ثابت ہونے پر عمران خان کا اپنی اہلیہ پر اعتماد مزید بڑھ جاتا تھا۔فوجی قیادت سے کشیدگیجریدے کے مطابق بشریٰ بی بی کے کردار پر اختلاف صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں تھا بلکہ فوجی قیادت کے ساتھ عمران خان کے تعلقات بھی اسی وجہ سے کشیدہ ہوئے۔ بعض سینئر اہلکاروں سمیت جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شکایت کرتے تھے کہ عمران خان اپنی اہلیہ کی بات زیادہ مانتے ہیں۔یہی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ 2019 میں اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل عاصم منیر کی برطرفی بھی بشریٰ بی بی سے جوڑی گئی۔ 2022 میں اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کے خلاف متعدد مقدمات قائم ہوئے اور آج دونوں جیل میں ہیں۔فوج سے ممکنہ مصالحت؟دی اکانومسٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کو فوج کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ کر سکتا ہے تو وہ بشریٰ بی بی ہیں، جو اس جانب جھکاؤ رکھتی ہیں۔ تاہم عمران خان کے قریبی حلقے، خصوصاً ان کی بہن علیمہ خان سمیت پارٹی کے سخت گیر عناصر، اس راستے کے سخت خلاف ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481