اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حیدرآباد میں پٹاخوں کی فیکٹری میں دھماکہ،6 افراد جاں بحق

حیدرآباد میں پٹاخوں کی فیکٹری میں دھماکہ،6 افراد جاں بحق

 

 حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد تھانہ بی سیکشن کی حدود لغاری گوٹھ میں پٹاخے تیار کرنے والی فیکٹری میں اچانک آگ بھڑکنے کے بعد زوردار دھماکہ ہوا، جس سے عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔ دھماکے کے نتیجے میں اب تک 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 13 زخمیوں کو ملبے سے نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

 

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور یو ایس آر (Urban Search & Rescue) یونٹ موقع پر موجود ہیں اور جدید آلات کی مدد سے ملبے میں پھنسے مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ملبے کے نیچے مزید افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے۔

عینی شاہد طاہر لغاری نے بتایا کہ دھماکے کے بعد آگ تیزی سے پھیلی اور 11 سے زائد زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ آتش بازی بنانے کا کارخانہ 2022 سے کام کر رہا تھا اور ماضی میں تین مرتبہ ایسے ہی واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حکومتی شخصیات کی ہدایات اور کارروائیاں

سندھ کے وزیر داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی حیدرآباد سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فیکٹری کے لائسنس اور قانونی حیثیت کی فوری جانچ کی جائے اور قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے فوری حقائق نامہ مانگتے ہوئے فیکٹری کے حفاظتی انتظامات کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ مزدوروں کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481