اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فارسی سیکھنے کی ضرورت

JAMEELABBASI فارسی سیکھنے کی ضرورت

 

جمیل الرحمن عباسی

 

ہماری قومی زبان  کی بنت و بناوٹ اور ذخیرہ الفاظ میں مقامی پراکرتوں اور عربی  کے علاوہ فارسی کا بہت زیادہ عمل دخل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں ایک عرصہ فارسی ایک علمی زبان کے طور پر رائج رہی ہے ۔

 

برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ بھی فارسی میں کیا گیا تھا اور اخلاق و مذہب میں عام کتابیں بھی فارسی ہی میں لکھی پڑھی جاتی تھیں البتہ اس کے ساتھ عربی زبان بھی رائج تھی ۔  اردو ان دنوں اپنے بچپن سے گزر رہی تھی ۔ بعد میں جب اردو قدرے جوان ہو گئی تب بھی فارسی اور عربی زبان ہمارے نظام تعلیم کا بنیادی حصہ تھے   بچوں کو سکول یعنی مکاتب میں اردو فارسی اور عربی کی تعلیم دی جاتی تھی مثلا علامہ محمد اقبال شاعر مشرق کے حالات زندگی پڑھیں تو انہوں نے انگریزی پڑھنے سے پہلے عربی اور فارسی پڑھ لی تھی ۔ یہ نہیں ہوا کہ ان کی عربی فارسی نے انھیں انگلش سے محروم رکھا بلکہ وہ انگلش میں وہاں تک گئے جہاں تک ہمارا ایک مکمل تعلیم یافتہ شخص کا سکتا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں آگے ۔

 

بہرحال پاکستان بننے کے بعد ہم نے تعلیم کے میدان میں ترقی معکوس کی اور عربی اور فارسی کو لازمی زبانوں کے زمرے سے نکال کر اختیاری میں ڈال دیا اور بطور خاص مضمون کے بھی ان کی تعلیم ہر ادارے اور ہر درجے میں ممکن نہیں بلکہ مخصوص اداروں اور درجوں ہی میں ان کی پڑھائی کا انتظام رکھا گیا ۔

 

اس طرح ہماری ایک بڑی تعداد عربی اور فارسی سے نا بلد ہوگئی ۔

 

اب حال یہ ہے کہ کسی اردو کتاب میں اگر کوئی فارسی شعر و مصرعہ یا ضرب المثل آجائے تو اسے سمجھنا تو درکنار پڑھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

 

فارسی کے دیس نکالے کی ایک دلچسپ مثال ذہن میں آ گئی ۔ایک وقت تھا کہ شناختی کارڈ میں پہچان کے  ظاہری علامت یا نشان   کے خانے میں  ،اگر وہ نہ ہوتی تو  فارسی لفظ ،،ندارَد ،، لکھا جاتا تھا اور ظاہر ہے اس دور میں اسے سمجھا بھی جاتا تھا ۔اب جو نئے کارڈ بنتے ہیں اس میں اس کی جگہ ،،کوئی نہیں ،، لکھا جاتا ہے تو گویا فارسی بالکل ہی ندارد ہو گئی!!

 

جہاں تک عربی کی بات ہے تو اس کی اہمیت محتاج بیان نہیں ہے اس لیے کہ  قران و حدیث کی یہی زبان ہے البتہ فارسی کی اہمیت ہمارے دل و دماغ سے محو ہو چکی ہے ۔ حالانکہ ہمارے اخلاقی اور مذہبی لٹریچر کا ایک بڑا حصہ فارسی میں ہے ۔ مثلا شیخ سعدی مولانا روم اور علامہ محمد اقبال کا کلام،  ہم صرف شاعری کی بات نہیں کر رہے شاعری کے علاوہ نثر میں بھی فارسی کا دامن مالا مال ہے۔

حکومتوں کی ترجیحات میں یہ دونوں زبانیں تو بالکل شامل نہیں ہیں ۔ اگر کچھ کرنا ہے تو عوام ہی کو کرنا ہے اور وہ یہ کہ  بالغ لوگ جو تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں  وہ فارسی سیکھنے کی کوشش کریں تاکہ نہ صرف و خود فارسی زبان و ادب سے مستفید ہو سکیں بلکہ اپنے خاندانوں میں بھی اس زبان کے تعارف کا ذریعہ بن سکیں ۔

یہاں دیگر ذرائع کے ساتھ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم مثلا فیس بک واٹس ایپ وغیرہ سے بھی فایدہ اٹھانا

چاہیے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481