وانا و اسلام آباد حملوں میں بھارت ملوث ہے،وزیراعظم
اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وانا اور اسلام آباد کچہری کے دہشت گرد حملوں میں بھارت کا ہاتھ واضح ہے اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وانا میں دہشت گردوں نے ایک بار پھر تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت نکالا۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کچہری حملے میں 12 افراد شہید ہوئے، جو ایک افسوسناک سانحہ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ “یہ حملے بیرونی سازش کا نتیجہ ہیں، دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “افغانستان کے حکام دہشت گرد عناصر پر قابو پائیں، کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو۔”
وزیراعظم نے کہا کہ “وانا کے حملہ آوروں میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ افغان وزیر خارجہ کے حالیہ دوروں سے ہمیں واضح پیغامات مل رہے ہیں، لیکن ہم اپنی ترقی اور سلامتی میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں افغان عوام کی 40 سال تک میزبانی کی، مگر آج اس کا جو صلہ دیا جا رہا ہے، وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ “بھارت کو چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی تھی، آج بھی بھارت بے بسی کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور ادارے متحد ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دیا گیا، جسے پوری قوم نے سراہا۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔”
وزیراعظم نے عدلیہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ “میثاقِ جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کی شق شامل ہے۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے شکر گزار ہیں کہ ریونیو کیسز میرٹ پر حل کیے جا رہے ہیں۔”
انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “کوئی ایسا منصوبہ جو وفاق کو کمزور کرے، وہ ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ کالا باغ ڈیم بلاشبہ ایک اہم معاشی منصوبہ ہے، مگر اگر اس سے قومی یکجہتی متاثر ہو تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔”
