اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زبور عجم غزل 52 لفظی ترجمہ و مختصر معانی

زبور عجم غزل 52 لفظی ترجمہ و مختصر معانی زبور عجم غزل 52 لفظی ترجمہ و مختصر معانی

جمیل الرحمٰن عباسی

زبور عجم غزل 52 لفظی ترجمہ و مختصر معانی

چَند بَرُوے خود کَشی پردہ صبح و شام را
چہرہ کُشا تمام کُن جَلوۂ ناتمام را

لفظی معنی

چند عدد و مقدار مبہم ، کچھ
چند بروئے خود : اپنے چہرے پر

کّشی : مصدر کَشیدَن کھینچنا سے ، بن مضارع کَش ، میم واحد متکلم کی ضمیر یا شناسہ
تو نے کھینچ رکھا ہے ،

کُشا : مصدر کُشادن ،کھولنا سے بن مضارع جو صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جیسے چشم کشا اور فعل امر کے طور پر بھی جیسے یہاں

تمام : پورا

کن : کردَن ،کرنا سے فعل امر اور بن مضارع

ترجمہ:

اے محبوب حقیقی اے خالق تو نے اپنے چہرے پہ صبح و شام یعنی مظاہر کائنات کا نقاب اور پردہ ڈال رکھا ہے
چہرہ کھول دے اور اپنے جلوے کے نامکمل دیدار کو مکمل کر دے ۔
مطلب : تخلیق کائنات میں خدا کی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔ جن کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ نقاب کشائی سے مراد مظاہر فطرت کے پردے میں خدا تعالیٰ کی قدرت کی کارفرمائی کو ملاحظہ کرکے ،،معرفت کردگار ،، میں اضافے کی توفیق ہے

 

 

 

سوز و گُداز حالتے است ! بادہ زِ من طلب کنی

پیشِ تو گر بیان کُنَم مستئ این مقام را

اے مخاطب : عشق کے سوز و گداز کی بھی ایک حالت خاص ہوتی ہے تو بھی مجھ سے اس کا جام طلب کرے گا اگر میں تیرے سامنے اس مقام کی سرمستی بیان کروں ( تو تو بھی شراب عشق کا جام مجھ سے طلب کرے گا )

 

من بَسُرودِ زندگی آتشِ اُو فُزودہ ام
تو نمِ شبنمے بدہ لالہ تشنہ کام را
میں نے ،،
لفظی معنی:
سُرودَن : گانا

بَسُرودِ زندگی : زندگی کے نغمے سنا کر
آتشِ اُو : اس کی آگ
فُزودہ ام : زیادہ کر دی ہے تیز کر دی ہے ،

تو نمِ شبنمے : تو شبنم کی نمی
بَدِہ : دے دے عطا کر دے
شبنم ::اوس یہاں مراد ہے فیضان سماوی اور توفیق ایزدی

لالۂ تشنہ کام را
لالہ : مشہور پھول یہاں لالہ سے مراد عاشقان الٰہی یا بندگان الہیٰ کے دل ہیں ۔

تشنه : پیاسا ہونا ، پانی کی احتیاج ہونا یا کسی بھی چیز کے احتیاج کے سبب اس کا اشتیاق ہونا

کام : دل کا ارادہ مطلب و مطلوب جو وہ کرنا چاہے ۔ اس کا ایک معنی منھ بھی ہے ۔
تشنہ کام: جس کا حلق پیاسا ہو یا جو محروم مقصد ہو

مطلب:

میں نے بامقصد اور حقیقی زندگی کے گیت سنا سنا کر یعنی مادیت سے بیزار کر کے روحانیت و معرفت و عبادت کی طرف راغب کرنے والے شعر و نغمے سنا سنا کر لوگوں یا مسلمانوں کے دل میں عشق کی آگ تیز تو کر دی ہے تو اب ان پر کرم کرتے ہوئے ان کے دلوں پر اپنا فیض اور توفیق نازل فرما اور انھیں عشق و معرفت کے تقاضے ادا کرنے والا بنا دے ۔

عقل وَرَق ورق بگَشت عشق بہ نکتہ رسید

طائر زِیرَکے بَرَد دانہ زیر دام را

گَشتَن : گھومنا پھرنا یا ہو جانا شُدَن

رسیدن ، پانا پہنچنا ،
طائر ::پرندہ
زیرک : ہوشیار و عقلمند

بُردَن:؛اٹھا لے جانا ، لے جانا سے مضارع

دام : جال ، چال ،ایک معنی جانور بھی ہے چوپائے

ترجمہ :عقل کتاب زندگی کا ورق ورق گھوم کر اور پڑھ لکھ اور سوچ بچار کر کے بھی محرومِ حضوری ہی رہی جب کہ عشق نکتے کی بات کو پا گیا ۔بالکل اس طرح جیسے کوئی ہوشیار پرندہ جال میں پھنسے بغیر دانہ اچک لے جائے ۔

یعنی عشق ہی کی بدولت انسان کی عقل کامل ہوتی ہے اور عقل کامل ہی حضوری کے مرتبے پر فائز ہو سکتی بلکہ زندگی کا مسائل کا حقیقی حل بھی یہی دکھا سکتی ہے ۔جب کہ عقل محض تشنہ کام ہی رہتی ہے ۔

 

 

نغمہ کُجا و من کُجا سازِ سُخْن بہانہ ایست
سُوے قَطار می کَشم ناقہ بے زِمام را

سو : طرف
کشم : کشیدن کھینچنا سے ہے ، کش بن مضارع اور م واحد متکلم کا شناسہ ،
ناقہ : اونٹنی

مطلب :

نغمہ کہاں اور میں کہاں یہ شاعری کا ساز تو ایک بہانہ ہے ۔ اصل میں تو میرا کلام ایک مقصد کی خاطر ہے اور وہ یہ کہ میں مسلمانوں کی اونٹنی کو بے مہار ہو چکی ہے یعنی مسلمان امت جس کا شیرازہ بکھر چکا ہے میں اپنے کلام سے اس امت کو اس کے منصب و مقام کی طرف لے جانا چاہتا ہوں میری شاعری صرف گل و بلبل کی کہانی نہیں بلکہ یہ ،،بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم ،، لے چلنے کی سعی ہے ۔

وقت بِرَہنہ گُفتن است من بہ کنایہ گفتہ ام

خود تو بگو کجا بّرَم ہم نفَسانِ خام را

الفاظ : بِرہنہ : عریاں ہونا لباس سے عاری ہونا ، یہاں مراد ہے گفتگو کا تکلفات اشارے کنائے سے عاری ہونا ۔

بّرَم ، بُردَن لے جانا سے بن مضارع بَر ، واحد متکلم کا شناسہ میم لگا ہے ۔ یاد رہے کہ فارسی فعل مضارع کی ضمیر یا شناسے کے ما قبل ،لازمی طور پر زبر آتا ہے ۔

ترجمہ: وقت تو کھلی باتیں کرنے کا ہے جب کہ میں اشارے کنائے میں گفتگو کرتا ہوں تو اب خود تو ہی بتا کہ میں اپنے خام اور کچے لوگوں کو کہاں لے جاؤں ۔

مطلب :

آج کا دور کھلے انداز میں دو اور دو چار کی طرح باتیں کرنے کا ہے جب کہ میں اشارے کنائے میں بات کرتا ہوں ۔اس لیے کہ علم حقیقت و عشق کو ،مادی علوم کی طرح فارمولوں کی شکل میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن زمانے کا مزاج مختلف ہے تو اب تو ہی بتا کہ میں اپنے خام مزاج ہم عصر لوگوں کو کہاں لے جاؤں اور کیسے لے جاؤں ۔
یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وقت کی نزاکت کے پیش نظر صاف صاف بات کرنے کا موقع ہے لیکن میں اشارے کنائے میں اس لیے کرتا ہوں کہ میرے مخاطب خان ذہن کے ہیں وہ صاف باتوں سے بدک کر دور بھی ہو سکتے اس لیے ہم نے اشارے کنائے کا سہارا لیا ہے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481