اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی۔  ایوانِ بالا (سینیٹ) نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیمی بل منظور کرلیا۔
بل کے حق میں 64 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، تاہم پارٹی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔

جب تحریک پر ووٹنگ ہوئی تو سیف اللّٰہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔
سینیٹ کے 64 اراکین نے ترمیم کی 59 شقوں کو مرحلہ وار منظور کیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل ایوان سے منظور کرلیا گیا ہے، اس کے حق میں 64 ووٹ آئے اور کوئی ووٹ مخالفت میں نہیں پڑا۔
بل کی منظوری کے بعد سیف اللّٰہ ابڑو اور احمد خان ایوان سے چلے گئے۔

ترمیم کے مطابق، صدرِ مملکت کو تاحیات اور گورنر کو اپنی مدت کے دوران کسی فوجداری کارروائی سے استثنا حاصل ہوگا۔
تاہم، صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد اگر صدر کسی پبلک آفس کے عہدے پر فائز ہوں تو استثنا لاگو نہیں ہوگا۔

مزید برآں، وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے مساوی تعداد میں ججز شامل ہوں گے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے کم از کم ایک جج تعینات کیا جائے گا۔
اسلام آباد کے ججز کی تعداد صوبوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔

آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالت صرف اس وقت ازخود نوٹس لے سکے گی جب کسی معاملے پر باضابطہ درخواست دائر کی جائے۔
ہائی کورٹ کے کسی جج کی منتقلی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوگی، اور اگر جج ٹرانسفر سے انکار کرے تو معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جائے گا، جہاں جج کو انکار کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دیا جائے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481