اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان کا پہاڑی ناول ” مچ پہخنا رہسی”

ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان کا پہاڑی ناول مچ پہخنا رہسی ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان کا پہاڑی ناول مچ پہخنا رہسی

 

امجد بٹ ۔ مری

دیکھنے میں اور عملاً جلال و وقار سے معمُور شخصِیّت ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان سے جب آپ مُلاقات کر چُکتے ہیں تو آپ کے سامنے ایک سِمٹا سِمٹایا عاجز و کمزور شخص رہ جاتا ہے ، جِس میں آپ کو کوئی ڈاکٹر ، پروفیسر یا خان نظر نہِیں آتا ۔ بس اپنے نام کے مِصداق ایک چھوٹا ، معمُولی و سادہ سا کمبل پوش ” مُحمّد صغِیر ” ۔ ایسے ہوتے ہیں عظِیم دانِشور جو اپنے اعمال ، فِکری اُڑان اور معنوی اولاد مُعاشرے کے لئے ورثہ و ترکہ چھوڑنے کو ترجِیح دیتے ہیں اور اپنے شدِید غُصّے کو الفاظ کی طاقت دینے کا فن بھی جانتے ہیں ۔
جنّت نظِیر سرزمِین راولا کوٹ(پاکِستانی کشمِیر) میں شعبۂ تدرِیس سے وابستہ ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان کی معنوی اولاد(تصنِیفات) کی تعداد ڈیڑھ درجن سے زائد ہو چُکی ہے ۔ اِن میں سے درجن کُتب نے پہاڑی ادب کے دامن کو تارِیخ ، ادب ، لِسانیات ، شاعری ، افسانے ، سفر نامے اور ناول کی صُورت میں مالا مال کِیا ہے ۔ پہاڑی زُبان میں اِتنی کُتب کے لِکھنے کا اعزاز پاکِستان اور کشمِیر میں صِرف ڈاکٹر صغِیر صاحب کو حاصِل ہے ۔
"مچ پہخنا رہسی”(الاؤ جلتا رہے گا) دراصل جمُّوں کشمِیر کی مُکمّل آزادی اور خُود مُختاری کے پس منظر میں لِکھا گیا ناول ہے ۔ اِس کا نام ہی ایک اِضطراب ، بے قراری اور اِنقلاب کے مفہُوم سے مُزیّن نظر آتا ہے ۔ کِتاب کا اِکتساب پڑھ کر یُوں لگتا ہے گویا یہ میرے ہی نام ہے ۔ کِیُونکہ یہ کِتاب اُن لوگوں کے نام منسُوب کی گئی ہے جو مری سے مُظفر آباد ، راولا کوٹ سے سِری نگر اور گِلگِت سے لدّاخ تک کشمِیر کو مُکمّل آزاد و خُود مُختار دیکھنا چاہتے ہیں ۔
پہاڑی زُبان کا خالص پُنچھی لہجہ اپنے پُورے صوتی آہنگ کے ساتھ اِس ناول کی خُوبصُورتی میں اِضافہ کر رہا ہے ۔ اِسے پڑھتے ہُوئے قاری خُود کو راولا کوٹ کے کِسی گاؤں میں موجُود پاتا ہے ، جہاں خالص پُنچھی زُبان بولی جا رہی ہے جِس میں وہ الفاظ بھی زیرِ اِستعمال ہیں جِنہیں آج کی موبائلی نسل انگریزی کے زیرِ اثر فراموش کر بیٹھی ہے ، لیکِن ڈاکٹر صاحب نے اپنے ناول نُما لِسانی خزانے میں یہ ذخِیرۂ الفاظ محفُوظ کر لِیا ہے ، جِس کی مدد سے اب میرے لئے اُن کی پہاڑی سمجھنی بہت آسان ہو گئی ہے ۔ یہ ناول صِرف ہماری تارِیخ ، روایات اور جذبات کی مُحافِظ نہِیں بلکہ اِس کی مدد سے ہم پہاڑی کے مترُوک الفاظ کی کھوج لگا کر لُغت بھی مُرتّب کر سکتے ہیں ۔ اِس ناول میں مقبُوضہ ہائے کشمِیر کی تہذِیبوں ، ثقافتوں اور مشاہِیر کا ذِکر مِلتا ہے ۔ لَلّٰہ عارفہ کے لئے خراجِ تحسِین ہِندوستانی مقبُوضہ کشمِیر سے گہری وابستگی کا آئینہ دار ہے ۔ پانی کی تارِیخی و جُغرافیائی اہمیّت کو روزمرّہ تہذِیب و ثقافت اور ضروریاتِ زِندگی کے ساتھ جوڑ کر دیہاتی ماحول کی خُوبصُورت منظر کشی کرنا ڈاکٹر صاحب ہی کا خاصہ ہے لیکن جب وہ لفظ "پتن” کی کھوج میں "راں پتن” اور "رام پتن” کے پردے ہٹا کر "آزاد پتن” تک پہنچتے ہیں تو دریاؤں کے قُرب و جوار میں اِنسانی آباد کاری کے جواز سمجھ آنے لگتے ہیں اور جب باورچی خانے میں روایتی چُولہے کے قرِیب بیٹھی رنجِیدہ خواتِین کے آنکھوں کے پانی کا ذِکر آتا ہے تو وہ خُود کو اِس پانی میں ڈُوبتا ہُوا محسُوس کرتے ہیں ۔ مُصنّف اِنسانی زِندگی کو چُولہے میں جلتے بُجھتے اُن کوئلوں سے تشبِیہ دیتے ہیں جو اپنے حِصّے کا الاؤ جلا کر آخر کار بُجھنے لگتے ہیں لیکن اِن بُجھتے الاؤ کی چِنگاریاں دیکھ کر ڈاکٹر صاحب یقِین سے کہتے ہیں کہ یہ الاؤ جلتا رہے گا اور کبھی نہِیں بُجھے گا ۔
یہ حقِیقت لِکھتے ہُوئے راقم اِنتہائی رنجِیدہ اور فِکر مند ہے کہ ایک طرف تو ڈاکٹر صغِیر صاحب جیسے دِیوانے ہیں جو اپنی زُبان میں سوچتے اور پہاڑی ادب کی کُتب سے اپنی زُبان و ادب کو مالا مال کر رہے ہیں لیکن دُوسری طرف پہاڑی قوم کی وہ اکثریت ہے جو اپنی مادری زُبان کو پڑھنا اور لِکھنا تک نہِیں جانتی ۔ لیکِن تصوّر کی آنکھ میں دیکھتا ہُوں کہ کشمِیری قوم نِصف صدی کے دوران میں اپنے سیاسی حقُوق کے ساتھ ساتھ جب لِسانی حقُوق بھی انگریزی زدہ اشرافیہ سے چھِین لے گی تو جو نِصاب پہاڑی زُبان میں تعلِیم کا ماخذ بنے گا اُس میں ڈاکٹر صاحب کے پہاڑی تارِیخ و ثقافت اور روایات میں گُندھے ناول "مچ پہخنا رہسی” کو اِس نِصاب کا حِصّہ بنانا پڑے گا ۔
"خیال ایک اُڑتا پنچھی ہوتا ہے ، اِس کی اُڑان ان دیکھی وادیوں تک پہنچا دیتی ہے ، اُس نے پھِر دیکھا کہ لوگ کئی سال سے پانی ، بِجلی کی باتیں کر رہے ہیں ۔ لیکِن اب اُنہیں اصل بات بھی سمجھ آ چُکی ہے ، یہ سب اِکٹھّے ہو کر گھروں سے باہر نِکل آئے ، دُنیا نے دیکھا کہ یہ تو کوئی اور لوگ ہیں ۔ پچہتّر برس کے نسل در نسل حُکمران اُنہیں دیکھ کر حیران تھے ۔ وطن کے چپّے چپّے سے لوگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر باہر نِکلے ۔ کندھے سے کندھا جُڑی اِس حوصلہ مند قوم کے آگے کوئی نہ ٹِک سکا ۔ اُنہوں نے اپنے لوگوں اور حُکمرانوں کو بتایا کہ کشمِیر صِرف کشمِیریوں کا مُلک ہے ۔ ہم قوم ہیں ، پانی بجلی ہمارے ہیں ، اِن پر ہمارا حق پہلے ہے ، ہم اپنا حق لے سکتے ہیں ، ہم اپنا حق لے کر رہیں گے اور ہم نے حق لے کر دِکھایا ” ۔
نِصف صدی قبل جنریٹر کا دور ، مغرب کے وقت بِجلی کا جلنا اور پھِر چوبِیس گھنٹے بِجلی جلنا ۔ پون صدی پر مُشتمِل تارِیکی سے اُجالے تک کا اِرتقائی دور ہمیں سمجھا گیا کہ پانی سے بننے والی سستی ترِین بِجلی کا صِرف دس فِیصد کشمِیر میں اِستعمال ہوتا ہے ۔ نوّے فِیصد بِجلی کشمِیر سے باہر فروخت ہوتی ہے تو پھِر اہلِ کشمِیر کو سستی اور مُکمّل دورانیے کی بِجلی سے کِیُوں محرُوم رکھا جا رہا ہے ؟ زمِین ، پانی اور بِجلی کے منصُوبے کشمِیر کے لیکِن کشمِیر بِجلی اور اُس کے ثمرات سے محرُوم ۔ تربیلا ڈیم سے بننے والی بِجلی کی قِیمت صُوبہ خیبر پختُون خوا لے سکتا ہے تو منگلا ڈیم کی رائلٹی مانگنے والے غدّار کِیُوں کہلا رہے ہیں ؟
آپ ناول کے جُوں جُوں اگلے صفحات پڑھتے جاتے ہیں تُوں تُوں آپ کو نہ صِرف کشمِیر کی مِٹّی اور رِشتوں سے مُصنّف کی گہری وابستگی کا عِلم ہوتا جاتا ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کی بے بسی اور بے چارگی پر مبنی لیکن کھری ، سچّی اور سادہ زِندگی کی تارِیخ آپ کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے ۔ بوسکی سُوٹ اور چِرچِراتی تِلّے والی چپّل سے لے کر کپتانی چپّل تک کا دور ذہن کے پردے پر الفاظ کا رُوپ دھار کر چلنے لگتا ہے ۔
1947ء تا 2025ء کی تارِیخِ کشمِیر کی اِنقلابی جھلک آپ اِس ناول میں مُلاحِظہ کر سکتے ہیں ۔ ہِندوستانی مقبُوضہ کشمِیر سے اُٹھنے والی تحرِیکِ آزادی سے پاکِستانی کشمِیر بھی مُتاثر ہُوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ جِن کشمِیریوں کو بُزدِل ، اُگروادی اور غدّار کہا جاتا تھا ، مقبُول بٹ شہِید نے 11 فروری 1984ء کو تیہاڑ جیل میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سرزمِینِ کشمِیر سے وفاداری کے لئے خُون کی سُرخ سند پیش کر دی اور آج کشمِیر کے نوجوانوں کی اکثریت اِسی نظریۂ خُود مُختار کشمِیر کی حامی ہے ۔
31 جولائی 1988ء کو سِری نگر میں مُجاہدِین کے دھماکوں نے دونوں متحارب ایجنسِیوں کو حیران کر دِیا ، کِیُونکہ افغان جنگ سے سبق سِیکھ کر کشمِیریوں کے خُود مُختار نظرئیے کو مزِید تقوِیّت مِل رہی تھی ۔ ایک طرف مُجاہدِین ہِندوستانی فوج سے نبردآزما تھے تو دُوسری طرف افغانِستان کو جہاد کے نام پر میدانِ جنگ بنانے کے امرِیکی اور پاکِستانی منصُوبہ ساز اِس بار سری نگر میں اپنے نُمائندے خرِیدنے میں ناکام رہے تو اُنہوں نے مُجاہدِین کو اسلحہ بھیجنا بند کر دِیا ، لہٰذا دونوں طرف سے چُن چُن کر کارگل کے کشمِیری مُجاہدِین کو ایجنسِیوں سے بغاوت کی پاداش میں قتل کِیا جانے لگا ۔ کئی بے گُناہ فوجی جوان و افسران بھی موت کے مُنہ میں چھوڑ دِئیے گئے اور یُوں کشمِیر کی مُسلّح تحرِیکِ آزادی دونوں مُتحارب طاقتوں کے نہ چاہنے کے باوجُود ایک بار پھِر سُلگتے مسائل میں سرِفہرِست آ گئی ۔
اِس ناول کا نوجوان ہِیرو(خان) جب مُجاہدِین کے ساتھ سری نگر جانے کا اِرادہ اپنے اہلِ خانہ پر اِن الفاظ کے ساتھ ظاہر کرتا ہے کہ ” پار جا رہا ہُوں ، اگر زِندہ لوٹ آیا تو اُس وقت تک میرا کالج کا نتِیجہ بھی آ چُکا ہو گا ، یُونِیورسِٹی میں داخلہ لُوں گا اور پڑھوں گا ” ۔ والدین اور بہنوں نے رو رو کر الوِداع کِیا ۔ موت کو آنکھوں دیکھنے کی کیفیت الفاظ بیان نہِیں کر سکتے ۔ ایل او سی کے پار جانا بھی ایک صبر آزما کام تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نے جِس سسپنس سے یہ سارا سفر بیان کِیا ہے گویا یہ سفر اُنہوں نے خُود کِیا ہو ۔ اِس دوران میں ایک بات یہ بھی سمجھ آ گئی کہ پُورے کشمِیر کی آزادی کی تڑپ مُسلمانوں کی طرح کشمِیر کے سِکھوں اور ہِندُوؤں میں بھی پائی جاتی ہے ۔
ہِندوستانی کشمِیر سے آئے مُجاہدِین اور پاکِستانی کشمِیر سے پار جانے والے مُجاہدِین یعنی "را” اور "آئی ایس آئی” کے تربِیّت یافتاؤں کو انجانے میں اور مجبُوراً اِکٹھّے بھی رہنا پڑتا ۔
پاکِستانی کشمِیر سے پار جانے والے مُجاہدِین پُونچھ سے سری نگر مُختلِف عِلاقوں اور بسوں میں سفر کرتے ۔ مقامی مُجاہدِین کے گھروں میں ٹھہرتے اور مُنہ اندھیرے آگے چل پڑتے ۔ اِن پُرخطر حالات میں اپنے ہی ساتھیوں کی مُخبری اور جاں بحق ہونے کا خطرہ بھی موجُود رہتا تھا ۔
خان کو یہ جان کر حیرت ہُوئی کہ ایشیا بھر میں مشہُور سری نگر صورہ میڈیکل سنٹر میں ایک ایسا مُسلم خاندان بھی آباد ہے جِس کے دوسو سے زائد ماہر ڈاکٹر صِرف امرِیکہ کے مُختلِف شعبوں میں خِدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ خان مُختلِف ٹھِکانوں پر کامیاب حملوں کے بعد جب گولی سے زخمی ہو کر خانقاہ میں پناہ لیتا ہے تو وہاں دُعا کے لئے آنے والی "روزن” اور اُس کا بھائی سرجن خاور ، خان کے لئے غیبی مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ گھر میں عِلاج کے بعد اپنی خُفیہ نِگرانی میں ، کشمِیری ہِندُو اور سِکھ افسروں کی مدد سے "نجُوٹ” سے پاکِستانی کشمِیر میں داخل کروا دیتے ہیں ۔ نکیال بارڈر پر فوجی افسر شاہ ہمدان کی تفتِیش ، خِدمت اور مُختلِف خیال ہونے کے باوجُود ، خان کے ساتھ وطن سے محبّت پر مبنی گُفتگُو میری آنکھوں سے بھی چھلک رہی ہے ، لیکِن وطن کی یہ محبّت یہاں بولی جانے والی پہاڑی زُبان پڑھے اور سمجھے بغیر محسُوس نہِیں کی جا سکتی اور نہ ہی بارڈر کے دونوں طرف آباد خاندانوں کے مسائل کو سمجھا جا سکتا ہے ۔
نکیال سے ہجِیرہ اور براستہ کوٹلی ، راولا کوٹ کے لئے ویگن پر واپسی کا سفر جہاں گھر گھر کی چھت پر صِرف کشمِیر کا جھنڈا دیکھ کر خان کی وطن سے محبّت کو مہمِیز مِلتی رہی وہِیں ہِندوستانی اور پاکِستانی کشمِیر کی خستہ حال سڑکیں دیکھ کر دوطرفہ حُکمرانوں کی عیّاشیاں اور خُود غرضیاں واضح ہو جاتی ہیں ۔
والدین اور بھائی بہنوں(جو شاید اُسے شہِید سمجھ بیٹھے تھے) سے اچانک مِلنے کی تڑپ خان کی آنکھوں میں تیر رہی تھی ۔ خان جب گھر کے باہر پہنچا تو رات چھا چُکی تھی ۔ دروازے پر ہی اُسے والدین اور بھائی بہنوں کی آوازیں آ رہی تھِیں ۔ آج بھی اُن کی باتوں سے خان کی یاد میں تڑپ محسُوس کی جا سکتی تھی ۔ گھر میں داخل ہونے اور والدین سے مِلنے کی لفظی منظر کشی سے نہ صِرف ڈاکٹر صاحب کے قادرالکلام ہونے کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ اِس بات کا بھی ثبُوت ہے کہ راقم بھی پہاڑی زُبان سے مادری زُبان کی طرح محظُوظ ہو سکتا ہے اور یہ سب ڈاکٹر صاحب کے اِس ناول کا کمال ہے ، جِس نے عوامی گُفتگُو میں بھی ادبی چاشنی کا خیال رکھا ہے ۔ مُستقبِل قرِیب میں جب پہاڑی زُبان ہمارے نِصاب کا حِصّہ ہو گی تو ڈاکٹر مُحمّد صغِیر خان پہاڑی زُبان کے "مولوی عبدالحق” یعنی "بابائے پہاڑی” کہلائیں گے ۔ اِن کی پہاڑی زُبان میں پُنچھی لہجے کا طنطنہ مُلاحِظہ فرمائیں :
"اُدھرا مُڑی اُس نی سوچ اپنے کہرے لے گئی اُٹھّی ۔ او سوچنے لغا اِس نے امّاں ابّا کہہ کرنے ہولے ؟ اِنِیں طہ نئیِں پتہ کہ میں کہر اینا دیس ، میں جد چئی چک کہر پُجساں طہ او کہہ سوچلے ؟ اُنِیں تصوّر وِچ سوچیا کہ اِس نی امّاں اِیہاں مِل لے ۔اِیہاں اِس کی چُماں دیلے ۔ اِیہاں اِیہاں ، اِتھِیں اُتھِیں ۔ اِس نے ابّا مصنُوعی روہ چہاڑی آخلے ‘ آئی اُٹھِیں ، فیر اِس کی چھوپلا جیا دلاسہ دیلے ۔ اِس ویلے اِنِیں نِیں اکھِیں وِچ اتھرُو ہولے ، لیکن او میں کولا چھوالے ، کِیاں کہ اِنِیں لوکِیں نے نزدِیک مرد نی اکھِیں وِچ اتھرُو بُزدِلی ہونے ۔ اِیّہہ ہوسی فہ ، اولاد طہ اولاد ہُونی ، فیر پُتّر طہ پُتّر ہونا ۔ اِس اگّے کیہڑی پہادری بُزدِلی ؟ اِس کیا طہ بس پیار ہُونا لاڈ ہُونا ” ۔
کوئی بھی اُردُو ، پنجابی یا ڈوگری زُبان جاننے والا ڈیڑھ سو صفحات کا یہ ناول پڑھ کر پچاس فیصد پہاڑی زُبان سِیکھ سکتا ہے ۔
اگرچہ اِس پہاڑی ناول میں حرُوف خوانی کی اب بھی ضرُورت ہے لیکن جناب مُمتاز غزنی نے اِس کی معیاری اشاعت سے ثابت کِیا ہے کہ پہاڑی زُبان کا یہ پہلا ناول ٹھیکے پر نہِیں چھپا بلکہ اِس کی بُنیاد میں اپنی مادری زُبان اور رہتل سے عِشق شامل ہے ۔
اِس ناول ” مچ پہخنا رہسی ” میں ناول کے مرکزی کِردار کی زِندگی میں دو محبّتوں کا ذِکر ہے ، روزن اور شاہ بانو ، جو اِس کے اِنقلابی نظرئیے کو تقوِیّت دینے کا باعث بنِیں ۔ سری نگر کی روزن بِالآخر برطانیہ پہنچ کر خان کی شرِیکِ حیات اور ننّھے دِلاور کی ماں بنتی ہے ۔ اِن کی زِندگی میں اُمِید کی چِنگاری اُس وقت جل اُٹھتی ہے جب سستے آٹے اور سستی بِجلی کی تحرِیک پاکِستانی کشمِیر کے حُکمرانوں کو گھر بھیجنے کا باعث بنتی ہے ۔ ہِندوستانی کشمِیر میں اِنجِینئر رشِید کی جِیت اور گِلگِت بلتِستان کی تحریکِ آزادی ثابِت کرتی ہے کہ یہاں جِتنے مرضی اِنتخابات کروائے جائیں ، کشمِیریوں کے دِلوں میں آزادی کا "الاؤ جلتا رہے گا”


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481