اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

طالبان نے بھارت کی پراکسی جنگ شروع کی ہے،خواجہ آصف

طالبان نے بھارت کی پراکسی جنگ شروع کی ہے،خواجہ آصف

طالبان نے بھارت کی پراکسی جنگ شروع کی ہے،خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ابتدائی دن ہی سے واضح تھا کہ افغان حکومت کے پاس مذاکرات کا حقیقی اختیار نہیں ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی معاہدے کے قریب پہنچتے، کابل سے رابطے کے بعد معاملات رک جاتے تھے، جس سے یہ شُبہ پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اصل کنٹرول باہر ہی سے کیا جا رہا تھا۔

خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ طالبان نے بھارت کی پراکسی جنگ شروع کی ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے کچھ علاقے متاثر اور بچے شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول نہیں رکھتے اور ایک گروپ کی زبانی کیے گئے یقین دہانیوں پر مکمل بھروسہ مشکل ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ کابل میں بیٹھے افراد کے ذریعے معاملات طے پانے میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کا کنٹرول بھارت سے کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات، صوبائی مفادات اور پارلیمانی اعتماد کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا اور آئندہ بھی متعلقہ اداروں کو اعتماد میں رکھا جائے گا۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل نہ ہوئے تو حالات کشیدگی کی طرف جائیں گے اور ان حالات میں "ہماری اور ان کی کھلی جنگ” ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے افغان مذاکراتی وفد کی محنت کی ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ماضی میں طالبان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے، چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں۔

مزید براں، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اہلِ فلسطین کی حفاظت کے لیے کوئی مثبت کردار ادا کر سکے تو وہ خوش آئند ہوگا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481