ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دی۔ کابینہ کو پنجاب حکومت کی درخواست اور ٹی ایل پی کی ملک میں پُرتشدد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں حکومتِ پنجاب کے اعلیٰ افسران نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ 2021ء میں بھی ٹی ایل پی پر پابندی لگائی گئی تھی، جو 6 ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی تھی کہ آئندہ ملک میں بے امنی اور پُرتشدد کارروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تاہم ٹی ایل پی نے اس وقت دی گئی ضمانتوں کی خلاف ورزی کی اور سابقہ پُرتشدد جلسوں اور ریلیوں میں سیکیورٹی اہلکار اور بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 15 دنوں میں پابندی کا ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ حتمی فیصلہ کرے گی، جس کے بعد الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کو ڈی نوٹیفائی کرے گا اور پابندی نافذ ہو جائے گی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے نفرت انگیز تقاریر کیں اور تنظیم فرقہ وارانہ انتہاپسندی، اقلیتوں کے خلاف تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہے۔ وزارتِ داخلہ نے کابینہ کو پابندی کی وجوہات اور ٹی ایل پی کارکنوں کی جانب سے کیے گئے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔
