اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان نے3ملکوں کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کردیا

پاکستان نے3ملکوں کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کردیا

پاکستان نے3ملکوں کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کردیا

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کرادیا ہے۔ وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں اہم ترامیم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

نئے فریم ورک کے تحت ان ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔ اب برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کرتے ہوئے بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے، جبکہ لین دین کا دورانیہ 90 روز سے بڑھا کر 120 روز کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، مخصوص اشیا کی فہرست کو ختم کر کے عام ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا ہے، جس سے کاروباری اداروں کو زیادہ لچک حاصل ہوگی۔

ذرائع کے مطابق، ان ترامیم کا مقصد بارٹر ٹریڈ میکنزم کو زیادہ مؤثر، عملی اور کاروبار دوست بنانا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے جون 2023 میں افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد کے دوران کئی مسائل سامنے آئے تھے۔

کاروباری حلقوں نے منظور شدہ اشیا کی محدود فہرست، معاہدوں کی تصدیق کی شرائط، اور مالی تصفیے کی مدت جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی، جس سے تجارتی سرگرمیاں سست ہو گئی تھیں۔

وزارتِ تجارت نے ان مسائل کے حل کے لیے اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، وزارتِ خارجہ اور پاکستان سنگل ونڈو سمیت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی، جس کے بعد نیا اور آسان فریم ورک تیار کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک سے پاکستان اور خطے کے ان ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ، کاروباری سہولت اور معاشی تعاون میں فروغ متوقع ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481