اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

20یرغمالیوں کے بعد4مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کےحوالے

21 20یرغمالیوں کے بعد4مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کےحوالے

20یرغمالیوں کے بعد4مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کےحوالے

 

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت 20 یرغمالیوں کی رہائی کے بعد 4 مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کردیں۔

 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے چاروں مغویوں کی لاشوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے اسرائیلی کے حوالے کیں، گائے ایلوز، یوسی شارابی، بپن جوشی اور ڈینیئل پریز کے لاشیں حوالے کی گئیں۔

 

حماس کا کہنا ہے کہ باقی 24 لاشوں کو نکالنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ تدفین کے تمام مقامات کا علم نہیں، حماس نے گزشتہ روز معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کردیا تھا، رہائی پانے والے تمام یرغمالی ہشاش بشاش نظر آئے۔

 

 

 

دوسری جانب اسرائیلی جیلوں سے ایک ہزار 968 فلسطینی قیدی بسوں میں سوار ہو کر غزہ اور مغربی کنارے پہنچے، برسوں بعد اپنے پیاروں کو دیکھ کر اہلخانہ خوشی سے پھولے نہ سمائے، ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوب پیار کیا۔

 

اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد مغربی کنارے پہنچنے والے ایک فلسطینی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر غزہ کے لوگوں اور مزاحمت کے قدم چومتے ہیں جنہوں نے ہمیں عزت کے ساتھ رہائی دلوائی۔

 

فلسطینی شہری نے کہا کہ جیل کے حالات بہت زیادہ سخت تھے، ہمیں 4 دن پہلے اپنی کوٹھریوں سے نکالا گیا اور تب سے ہمیں مارا پیٹا جاتارہا اور ذلیل کیا گیا۔

 

قبل ازیں اسرائیلی قیدیوں کی 736 دن بعد رہائی پر تل ابیب اور یروشلم میں مظاہرے ہوئے، مظاہرین نے حکومت سے سوال کیا کہ یہ سب اتنی دیر سے کیوں ہوا؟ اگر معاہدہ پہلے ہو جاتا تو زیادہ قیدی زندہ ہوتے اور ہزاروں فلسطینیوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

 

مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف شدید نعرے بازی کی، احتجاج کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کو بھی عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اسرائیلی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی مفادات کے لیے معاہدے میں تاخیر کی جس کا نتیجہ قیدیوں کی موت اور خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد کی صورت میں نکلا۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481