اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج نے حملہ کردیا

اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر کارروائی کر دی

اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر کارروائی کر دی

غزہ: امدادی سامان اور ادویات لے جانے والا گلوبل صمود فلوٹیلا نامی بحری بیڑہ غزہ کے قریب ہائی رسک زون میں داخل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کی کارروائی کا شکار ہوا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اہلکار فلوٹیلا کی کشتیوں میں داخل ہو گئے اور تمام ارکان کو حراست میں لیا گیا۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور اپنی کشتیوں پر لائیو ویڈیو فیڈ فعال کی تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں فوری عالمی ردعمل سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد کشتیوں کے لائیو فیڈ اچانک بند ہوگئے، جس پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کے نتیجے میں یہ ہوا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے فلوٹیلا کو سفر روکنے کی وارننگ دی، جبکہ اسرائیلی جہازوں نے دو کشتیوں کا گھیراؤ کر کے مواصلاتی آلات جام کر دیے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا بھی منصوبہ ہے۔

اس دوران اسپین، اٹلی اور یونان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلوٹیلا کے افراد کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے انسانی حقوق اور کولمبیا کے صدر نے بھی کہا کہ امدادی بیڑے کو بغیر رکاوٹ غزہ تک پہنچنے دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق اسپین اور اٹلی کے جہاز فلوٹیلا کے ساتھ موجود ہیں تاکہ سفر محفوظ بنایا جا سکے، جبکہ ترکی کے ڈرونز فضاء میں نگرانی کر رہے ہیں۔ تاہم اٹلی نے اعلان کیا کہ اس کا جنگی جہاز واپس لوٹ جائے گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے فلوٹیلا کو نشانہ بنایا تو اس سے خطے میں ایک بڑا انسانی اور سفارتی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

فلوٹیلا پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481