نیتن یاہو نے میرا امن معاہدہ تسلیم کر لیا،ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ: اسرائیلی وزیراعظم نے میرا امن معاہدہ تسلیم کر لیا، آج مشرق وسطیٰ کے لیے تاریخی دن
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان کے امن معاہدے کو تسلیم کر لیا ہے، اور آج مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی دن ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اگر حماس 72 گھنٹوں کے اندر معاہدہ تسلیم کر لے تو تمام یرغمالی فوری طور پر رہا ہو جائیں گے، جو خود ایک جنگ بندی کے مترادف ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے متعلق بھی اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے اور معاہدہ تسلیم کرنے پر نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امن معاہدے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور یورپی اتحادیوں سے مکمل حمایت حاصل ہے۔ ترک اور انڈونیشیا کے صدور بھی اس عمل میں شامل ہیں، اور سنا ہے کہ حماس بھی جنگ بندی کا خواہاں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل پاکستان نے بھی معاہدے کی مکمل حمایت کی ہے۔ عرب اور مسلم ممالک نے تجاویز پر کام کیا اور غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ غزہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک بین الاقوامی بورڈ قائم کیا جائے گا جسے "بورڈ آف پیس” کہا جائے گا۔ برطانوی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی اس منصوبے کا حصہ ہوں گے جبکہ دیگر اہم نام آئندہ دنوں میں سامنے آئیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس معاہدہ مسترد کرے تو اسرائیل کو حماس کے خاتمے کے لیے امریکی مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی۔ فلسطین میں نئی حکومت فلسطینی عوام اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوگی، جس سے خطے میں امن اور خوشحالی کا نیا باب کھلے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران بھی مستقبل میں ابراہیمی معاہدے کا حصہ بنے گا اور غزہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے ایک اہم اقدام ہوگا۔
