اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فلسطینی ریاست کی فوری تسلیم حماس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے

فلسطینی ریاست کی فوری تسلیم حماس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے

فلسطینی ریاست کی فوری تسلیم حماس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروائی اور مجموعی طور پر سات جنگیں رکوانے میں کامیاب رہے، اور ان جنگوں کو روکنے میں اقوامِ متحدہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت کے ابتدائی آٹھ ماہ میں امریکا میں مہنگائی میں کمی آئی، سرمایہ کاری بڑھی اور معیشت مضبوط ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی سرحدیں محفوظ ہیں اور غیر قانونی تارکین کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اقوامِ متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے موقع پر اسے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا، مگر اس وقت ایک فون کال بھی نہیں آئی۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام، غزہ میں امن، فلسطین کے مسائل اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ وہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے روس پر محصولات لگانے اور یورپی ممالک سے توانائی کی خریداری بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر ٹرمپ نے امریکا میں جرائم پر قابو پانے، غیر قانونی تارکین کے خلاف اقدامات اور واشنگٹن ڈی سی کو محفوظ بنانے کی اپنی کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے بائیولوجیکل ہتھیاروں کی روک تھام، موسمیاتی تبدیلی کے معاملات اور عالمی امن کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین جنگ نہ ہوتی اور یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے دفاعی حکمت عملی کے طور پر ٹیرف اور تیل و گیس کے ذخائر کے استعمال پر بھی بات کی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر تقریباً ایک گھنٹہ جاری رکھی اور عالمی امور میں امریکا کی کوششوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481