Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لندن،فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ،پہلی بار پرچم کشائی

لندن میں فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ،پہلی بار پرچم کشائی

لندن،فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ،پہلی بار پرچم کشائی

برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے بعد لندن میں واقع فلسطینی مشن کو باضابطہ طور پر سفارتخانے کا درجہ دے دیا گیا، جہاں پہلی بار فلسطینی پرچم لہرایا گیا۔

الجزیرہ کے مطابق یہ تقریب پیر 22 ستمبر 2025 کو اس وقت منعقد ہوئی جب برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ پرچم کشائی کی تقریب لندن کے مرکز میں اس عمارت کے باہر ہوئی جو پہلے فلسطینی مشن کہلاتی تھی اور اب سفارتخانہ بن چکی ہے۔

تقریب میں خطاب کرتے ہوئے برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زملوط نے اس لمحے کو آزادی، وقار اور انسانی حقوق سے جڑی تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ماضی کی ناانصافیوں کا ازالہ اور ایک آزاد فلسطین کی جانب قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب غزہ میں عوام بھوک، بمباری اور ملبے تلے دبنے جیسے حالات جھیل رہے ہیں اور مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضہ جاری ہے، ایسے وقت میں یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے حوصلے کو بلند کرتا ہے۔

سفیر نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کی انسانیت پر اب بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، مگر یہ پرچم اس عہد کی علامت ہے کہ "فلسطین ہمیشہ قائم اور آزاد رہے گا”۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم CAGE انٹرنیشنل نے برطانیہ کے فیصلے کو "تاخیر سے کیا گیا علامتی اعلان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک فلسطینی نسل کشی میں اپنی شمولیت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل صرف اسرائیلی قبضے اور امتیازی نظام کے خاتمے سے ممکن ہے۔

غزہ کے شہریوں نے فلسطینی ریاست کے تسلیم ہونے کو امید کی ایک کرن قرار دیا، تاہم عالمی برادری سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ نسل کشی کو روکا جا سکے اور فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت مل سکے۔

اس تناظر میں فرانس نے بھی آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ایفل ٹاور کی اسکرین پر فلسطین اور اسرائیل کے پرچم دکھائے گئے اور دو ریاستی حل کی حمایت کا پیغام دیا گیا۔ صدر ایمانویل میکرون نے کہا کہ غزہ میں تمام زندگیاں برابر ہیں اور اسرائیل کی عسکری حکمت عملی حماس کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں فضائی کارروائی کے دوران حماس کی بحری پولیس کے نائب سربراہ ایاد ابو یوسو کو ہلاک کر دیا ہے، جس پر الزام تھا کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ملوث تھا۔

طبی ذرائع کے مطابق آج صبح سے اسرائیلی حملوں میں غزہ کے مختلف حصوں میں کم از کم 37 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سے 25 کا تعلق غزہ سٹی سے ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481