افغانستان کو دوٹوک پیغام:پاکستان دہشتگردی برداشت نہیں کرےگا
بنوں، وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کو دوٹوک پیغام دے دیا گیا ہے کہ اسے دہشت گرد عناصر اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی اور اس میں کسی قسم کا ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دہشت گردی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر کور کمانڈر پشاور نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں جنہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے 12 بہادر جوانوں کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی اور بعد ازاں بنوں سی ایم ایچ میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو یکسر رد کرتی ہے۔ ان کے مطابق جو عناصر خارجیوں اور بھارتی پراکسیوں کی سہولت کاری یا نرمی کی بات کرتے ہیں وہ انہی کے آلہ کار ہیں اور انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام، ریاست اور افواجِ پاکستان بھارتی پراکسیوں کے خلاف متحد ہیں اور دہشت گردی کے مزید مؤثر جواب کے لیے فوری قانونی و انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں افغان شہری براہِ راست ملوث پائے گئے ہیں، جو سرحد پار سے آکر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا نہایت ضروری ہے۔
