اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

11ویں قسط۔۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

IMG 20250721 WA0150

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(گیارویں قسط)

اوسیاہ سکول میں پڑھتے ہوئے ہمیں ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ کئی لڑکوں کے والد یا بھائی بڑے افسر یا کاروباری شخصیت تھے۔ پھر اخبارات و رسائل اکثر لوگ پڑھتے تھے۔ ٹیلی ویژن بھی ہر گھر میں موجود تھا۔ اس لیے حالات، مواقع، تبدیلیوں اور نئے عہد کے تقاضوں کے حوالے سے اکثر گھروں میں مکالمہ ہوتا تھا۔ شروع شروع میں جب ہمارا کوئی ہم جماعت ہمیں آ کر بتاتا کہ اس کے بڑے بھائی برطانیہ پڑھنے گئے ہیں تو ہم سوچتے کہ اپنا گھر، گاؤں، اہل خانہ اور ملک چھوڑ کر اتنے دور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھنا ہی ہے تو لاہور یا کراچی جا کر پڑھ لیتے۔ اسی طرح کئی ایجادات کی بات ہوتی تو ہمیں حیرت ہوتی کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ہمارا علاقہ ابھی بجلی اور سڑک کی سہولت سے بھی محروم تھا اور آگے بڑھنے والے برق رفتاری سے ترقی کا سفر طے کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ آٹھویں میں ہمارے سکول کے کچھ بچے سکول سے چھٹیاں لے کر کسی کیڈٹ کالج کے امتحانات میں شریک ہوئے تھے۔ جب وہ واپس آئے تو ان سے وہاں کے احوال ہم لوگوں نے بہت دلچسپی سے سنے، ہمیں لگ رہا تھا جیسے ہم کوئی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ کچھ ایسے بھی لڑکے تھے جن کے اہل خانہ پہلے کراچی یا لاہور رہ رہے تھے اور کسی وجہ سے انھوں نے مراجعت کا سفر کیا۔ ان دوستوں کی مدد سے ہمیں یہ علم ہوا کہ بڑے شہروں میں کیا کیا امکانات اور مسائل ہیں۔

اوسیاہ بازار بہت وسیع نہیں تھا لیکن بیکری، ریستوران، کریانہ سٹور، بک اینڈ سٹیشنری سٹور وغیرہ سب موجود تھے۔ میں اپنے جیب خرچ سے کہانیوں کی کتب، فینسی نوٹ بکس، قلم اور رنگین پنسلیں خریدتا۔ مجھے بچپن سے ہی رنگ اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے اور کتابیں ایک رفیق خاص کی طرح میرے ہمراہ رہتیں۔ اگر کسی کے ہاں مہمان بھی جاتے تو میں دو تین کتابیں ہمراہ لے جاتا۔ جب عام لوگ باہم گفتگو کرتے تو مجھے حیرت ہوتی کہ یہ تضییع اوقات کیوں کر رہے ہیں (ویسے آج بھی کئی بہ ظاہر پڑھے لکھے لوگوں کی محافل میں میرے احساسات یہی ہوتے ہیں)۔ بڑی ہمشیرہ کے گھر لونگال اکثر جانا ہوتا تھا۔ کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ ایک بار ان کی ایک پڑوسن نے انھیں ایک انتہائی قیمتی مشورے سے نوازا۔۔۔

"یوء جیہڑا تساں نا نکا پہراء آ، یوء ہر ویلے کتاباں ژے پڑھنا رہنا۔ اس واستے بوہٹی لوڑنے نیں بجائے اس کی کتاباں نال بیاہی شوڑو”۔

(یہ جو آپ کا چھوٹا بھائی ہے یہ ہر وقت کتابوں کے مطالعہ میں غرق رہتا ہے۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ اس کے لیے دلھن تلاش کرنے کے بجائے اس کی شادی کتابوں سے ہی کر دیں)

نظیر باقری نے تو کہا تھا۔۔۔
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
"سوال یہ ہے "کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

لیکن میرا معاملہ نظیر باقری سے یکسر مختلف ہے۔ مجھے کتابوں نے مثبت انداز فکر دیا، عزت و تکریم سے نوازا، محبتوں کی دولت دی، پہچان دی، دوست دیے اور عزت سے جینے کا ہنر سکھایا۔

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
افتخار عارف

اب تو بدقسمتی سے کتاب کلچرل دم توڑتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ورلڈ میں روایتی کتاب اور روایتی اخبار معدومی کے خطرات سے دوچار ہیں۔ سعود عثمانی نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ۔۔۔ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔۔ گھروں میں بھی اب کتاب ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ کئی نابغہ روزگار شخصیات کی وفات کے بعد ان کی گراں قدر لائبریریاں ان کے اہل خانہ نے پرانی کتابیں بیچنے والوں کو شاید تول کے حساب سے بیچیں اور وہ نایاب ہیرے فٹ پاتھوں پر رکھ کر پرانی کتابوں والے بیچتے پائے گئے۔ کمیٹی چوک میں اشرف بک ایجنسی پر ہر وقت قطاروں میں کھڑے لوگ ہول سیل اور ریٹیل میں کتابیں، رسالے، ڈائجسٹ، ہفتہ وار میگزین اور ڈائریاں کیلنڈر خرید رہے ہوتے تھے۔ احمد بک کارپوریشن پر دور دور سے کتابوں کے دکان دار خریداری کرنے آتے تھے۔ اسلام آباد میں کتابوں کی دو تین دکانیں ہر وقت خریداروں سے بھری رہتی تھیں۔ ہر چوک میں کسی اخبار بیچنے والے نے اخباروں کے ساتھ ساتھ کتابوں، ڈائجسٹوں اور رسالوں کا سٹال سجایا ہوتا تھا۔ گلی محلوں میں بھی کتابوں کی دکانوں پر خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ بچوں کی پاکٹ پاور کے مطابق ہر معیار اور جسامت کی کہانیوں کی کتابیں مل جاتی تھیں۔ نیز لائبریریاں بھی ہر علاقے میں موجود تھیں جہاں سے بچے روزانہ کے حساب سے کرائے پر کتابیں لے کر پڑھتے تھے۔ صادق آباد راولپنڈی میں صادق آباد چوک میں لکی بک سینٹر پر ہر وقت طلبہ اور عام قارئین کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ حاجی چوک، مسلم ٹاؤن میں بلال بابر لائبریری تھی جہاں سے بچے کرائے پر کتابیں حاصل کرتے اور جلدی جلدی پڑھ کے واپس کرتے تاکہ کم کرایہ لگے اور پھر نئی کتاب پڑھنے کا بھی موقع ملے۔

images 17صبح صبح اخبار پڑھنا اکثر لوگوں کا محبوب مشغلہ ہوتا تھا۔ ناشتے کی میز پر اخبار کی موجودگی ناگزیر سمجھی جاتی تھی۔ پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگ اداریہ اور کالم ضرور پڑھتے تھے۔ کوئی عجلت میں بھی ہوتا تو شہہ سرخیاں ضرور پڑھتا۔ چھٹی والے دن اخبار کے ہمراہ میگزین بھی ملتا۔ پہلے یہ جمعہ میگزین ہوتا تھا لیکن جب اتوار کی تعطیل ہوئی تو یہ سنڈے میگزین بن گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی میں اخبار جہاں، میگ طرز کے ہفتہ وار میگزین بھی خاصے مقبول تھے۔

اب چھوٹے بڑے، عورت مرد، امیر غریب، شہری دیہاتی سب موبائل فون کے اسیر ہو گئے ہیں۔ میڈیا چینلز کی بھرمار اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو تضییع اوقات کے لامتناہی مواقع فراہم کر دیے ہیں۔ ہمارے ہاں ویسے بھی نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے کا فریضہ کبھی انجام نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اکثریت تمام جدید سہولیات کا منفی استعمال کر کے فوائد کے بجائے شدید ترین نقصانات حاصل کر رہی ہے۔ جہاں موبائل فون نے عام آدمی کے معمولات میں دیگر کئی منفی تبدیلیاں لائی ہیں وہیں اس چھوٹے سے آلے نے ہمارے لوگوں کو کتاب سے بھی دور کر کے لائبریری اور کتاب گھر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

لیکن اگر اس صورت حال کا موازنہ ترقی یافتہ دنیا سے کیا جائے تو وہاں اب بھی روایتی کتاب پڑھی جاتی ہے اس لیے ہر ایڈیشن ہزاروں کی تعداد میں چھپتا ہے۔ لائبریریاں آباد ہیں۔ روایتی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل بکس بھی دستیاب ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں تین سو یا پانچ سو کتاب چھپتی ہے اور تیس کروڑ لوگوں میں اتنے بھی کتاب دوست افراد موجود نہیں جو یہ کتابوں کی تھوڑی سی تعداد خرید لیں۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔۔۔۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

آئیے! غلام محمد قاصر کی اس دعا پر آمین کہیں کہ یہ مالک دوجہاں کے ہاں شرف قبولیت حاصل کر لے۔۔۔

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
غلام محمد قاصر

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481