اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سیلاب کے باعث بلوچستان میں غذائی بحران کا خدشہ

سیلاب کے باعث بلوچستان میں غذائی بحران کا خدشہ

سیلاب کے باعث بلوچستان میں غذائی بحران کا خدشہ-

ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بلوچستان میں غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ پنجاب سے سپلائی معطل ہونے کے باعث صوبے میں آٹے اور گندم کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں۔ چمن میں آٹے کی7ہزار روپے میں دستیاب 100کلو بوری کی قیمت 4 ہزار روپے اضافے کے ساتھ 11ہزار روپے ہوگئی۔ چمن میں ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نے نجی ٹی وی کوبتایا کہ حکومت پنجاب نے گزشتہ روز گندم اور آٹے کی بلوچستان کو سپلائی روک دی ہے جبکہ اگست کے وسط ہی میں پنجاب ملز مالکان نے گندم کی بلیک مارکیٹنگ کو گندم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بتائی تھی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں اور روڈ اسٹرکچرز متاثر ہونے کے باعث طلب کے مقابلے میں رسد میں بھی کمی آنے سے آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا، چمن اور دیگر شہروں کی مارکیٹوں میں گزشتہ 20روز کے دوران آٹے کی 7 ہزار روپے میں دستیاب 100کلو بوری کی قیمت مسلسل بڑھتے ہوئے 4 ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ اب 11ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔ ڈیلرز کاکہنا ہے کہ پنجاب سے سپلائی معطلی کے بعد چمن اور دیگر اضلاع میں ڈیلرز کے پاس موجود اسٹاکس مارکیٹ میں سپلائی کی جارہی ہے، صوبے میں آٹے اور گندم کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، گندم کی عدم دستیابی سے بلوچستان کے ملز میں پسائی کا کام بھی معطل ہوگیاہے۔ ڈیلرز کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان اور پنجاب حکومت نے مل بیٹھ کر مسئلہ حل نہ کیا تو اگلے دو تین روز میں 100کلو بوری 15ہزار روپے سے بھی تجاوز کرسکتی ہے اور آٹا صوبے کی مارکیٹ میں نایاب ہونے کا خطرہ ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481