اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دریائے چناب اور ستلج میں طغیانی،جنوں علاقے زیرِ آب

بھارت کا آبی حملہ،چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب

دریائے چناب اور ستلج میں طغیانی،جنوں علاقے زیرِ آب

لاہور: بھارت کے اکھنور علاقے سے آنے والا سیلابی ریلہ ہیڈ مرالہ سے آگے بڑھ چکا ہے، جہاں پانی کی سطح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ریلہ اب ہیڈ خانکی سے ہوتے ہوئے ہیڈ قادرآباد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انتظامیہ نے ہیڈ خانکی پر ڈرون کے ذریعے نگرانی شروع کر دی اور قریبی دیہات کو خالی کرا لیا ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ پل ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اگر بہاؤ چھ لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا تو ہیڈ خانکی کے قریب شگاف ڈالا جائے گا۔ اس حوالے سے 450 دیہات خالی کرانے کے لیے مساجد میں اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔ بھلوال کے علاقے میں شدید کٹاؤ کے باعث زرعی زمین دریا برد ہو گئی۔

ملتان میں اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے جس سے نواب پور کی کئی بستیاں ڈوب گئی ہیں، گھر زیرِ آب اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ قصور کے مقام گنڈا سنگھ والا پر دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 69 ہزار کیوسک سے اوپر چلا گیا۔ نواحی گاؤں فتوحی والا میں بھی گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور سینکڑوں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئیں۔

ہیڈ سلیمانکی سے آنے والا بڑا ریلہ ہیڈ اسلام تک پہنچ گیا، جس سے وہاڑی، بورے والا اور میلسی کے درجنوں علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بہاولنگر میں بھی 124 موضع جات متاثر ہوئے اور چھ ہزار سے زائد افراد مشکلات میں گھِر گئے۔

لودھراں کے مختلف علاقوں میں بند ٹوٹنے سے پانی فصلوں میں داخل ہو گیا جبکہ جھوک امام بخش اور سیدی والا کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ متاثرہ دیہات میں لوگ کشتیوں کے ذریعے نقل و حرکت کر رہے ہیں اور ریلیف کیمپ قریب قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481