اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالا باغ ڈیم ریاست کی بقا کے لیے ضروری ہے،علی امین گنڈاپور

کالا باغ ڈیم ریاست کی بقا کے لیے ضروری ہے،علی امین گنڈاپور

کالا باغ ڈیم ریاست کی بقا کے لیے ضروری ہے،علی امین گنڈاپور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تعمیر قومی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں دعویٰ کیا گیا کہ "سیاست نہیں، ریاست کی بات ہوگی” لیکن عملی طور پر کالا باغ ڈیم کا ذکر تک نہیں کیا گیا، جو سیاسی مصلحت کی نشانی ہے، ریاستی سنجیدگی کی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم سے متعلق کچھ حلقوں کو اعتراضات ضرور ہیں مگر یہ ایسے مسائل نہیں جنہیں حل نہ کیا جا سکے۔ ان کے بقول اگر واقعی ریاستی مفاد کو ترجیح دی جاتی تو کالا باغ ڈیم پر بات ضرور ہوتی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہے اور دیگر صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ڈیم کی تعمیر کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

علی امین گنڈاپور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں، سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے نقصانات کے تدارک کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں بھی اس اہم منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور کے تحفظ کے لیے جبہ ڈیم اور بڈھنی نالے پر حفاظتی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ شہر کو سیلاب سے محفوظ بنایا جا سکے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس بھی ہوا جس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں اور سیلابوں میں 411 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں سے 352 متاثرہ خاندانوں کو 704 ملین روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ اسی طرح 132 زخمیوں میں سے 60 کو 30 ملین روپے کا معاوضہ دیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ 571 مکمل طور پر تباہ شدہ گھروں میں سے 367 کے مالکان اور 1983 جزوی متاثرہ گھروں میں سے 1094 مالکان کو مجموعی طور پر 595 ملین روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے باقی متاثرین کو فوری معاوضے دینے، سرکاری انفراسٹرکچر کی بحالی اور آبی گزرگاہوں کی صفائی کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت دی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481