اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سرکل بکوٹ،بیروٹ،اور مری کے لوگ یہ تحریر ضرور پڑھیں

سرکل بکوٹ،بیروٹ،اور مری کے لوگ یہ تحریر ضرور پڑھیں

سرکل بکوٹ،بیروٹ،اور مری کے لوگ یہ تحریر ضرور پڑھیں

برطانوی دور اور ہمارے قبائل کا کردار — ایک تاریخی خلاصہ

جب انگریز برصغیر پر قابض ہوئے تو مری، کوہالہ، بیروٹ اور گلیات کا علاقہ اُن کے لئے اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا تھا۔ یہ خطہ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں تھا بلکہ کشمیر، سرینگر اور پنجاب کو ملانے والی اہم گزرگاہ بھی تھا۔

ڈھونڈ / عباسی قبائل

یہ قبائل شروع ہی سے انگریزوں کے خلاف مزاحمت پر قائم رہے۔ انہوں نے 1857 کی جنگِ آزادی اور اُس کے بعد کے دور میں کئی بار انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔ اس مزاحمتی کردار کی وجہ سے برطانوی ریکارڈز میں ان کے بارے میں اکثر منفی اور طنزیہ الفاظ استعمال کیے گئے۔ کبھی انہیں "deceitful” (دھوکہ باز) اور "ill-conditioned” کہا گیا، کبھی لکھا گیا کہ یہ "تقسیم شدہ اور ناقابلِ اعتبار” ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قبائل انگریزوں کے آگے جھکنے پر آمادہ نہیں تھے اور اپنی آزادی کے لیے مسلسل کھڑے رہے۔

ستی، کرلر اور دیگر قبائل

انگریزوں نے بعض قبائل کے بارے میں مثبت ریمارکس دیے۔ مثال کے طور پر ستی اور کرلر کے بارے میں لکھا گیا کہ یہ "sturdy race” ہیں، "fine physique” رکھتے ہیں اور "excellent soldiers” ثابت ہوتے ہیں۔ انگریز فوجی ریکارڈز میں ان کی تعریف اس لیے ملتی ہے کہ یہ قبائل بھرتی کے لیے تیار تھے یا پھر نسبتاً زیادہ فرمانبردار سمجھے جاتے تھے۔

انتقامی کارروائیاں

ڈھونڈ قبائل کی بغاوتوں کے جواب میں انگریزوں نے سخت کارروائیاں کیں۔ ریکارڈ میں درج ہے کہ ان کی گیارہ بستیاں جلائی گئیں اور کئی سرکردہ راہنماؤں کو پھانسی دی گئی۔ یہ اقدامات صرف طاقت کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ باقی قبائل کے لیے عبرت کا سامان بنانے کے لیے بھی تھے۔

سرداروں اور خانوں کا قیام

انگریزوں نے اپنی پالیسی کے تحت علاقے کے اندر کچھ بااثر سرداروں کو پہچانا اور انہیں جاگیریں اور مراعات دیں۔ مثال کے طور پر "خان آف بوئی” کا ذکر ملتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ مقامی سطح پر ایسے خان اور سردار کھڑے کیے جائیں جو انگریز حکومت کے وفادار ہوں اور یوں قبائل کو تقسیم کر کے کمزور رکھا جائے۔

نتیجہ

وہ قبائل جنہیں انگریزوں نے سراہا، وہ زیادہ تر ان کے تابعدار اور مطیع تھے۔

وہ قبائل جنہیں طنز، تنقید اور نفرت آمیز الفاظ میں یاد کیا گیا (جیسے ڈھونڈ/عباسی)، وہی اصل میں انگریز تسلط کے خلاف ڈٹے رہے اور غلامی قبول نہ کی۔

خانوں اور جاگیرداروں کی تخلیق دراصل تقسیم کی پالیسی تھی تاکہ مقامی مزاحمت کمزور ہو اور انگریزوں کے لیے علاقے پر قابض رہنا آسان ہو۔

اصل اقتباسات اور تراجم

1. “the Dhunds, who are deceitful and ill-conditioned.”
ترجمہ: "ڈھونڈ ایسے لوگ ہیں جو دھوکہ باز اور بدحالت (خراب فطرت کے) ہیں۔”
– Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94 (F. A. Robertson, Lahore, 1895)

2. “They are a sturdy race, of fine physique, and make excellent soldiers.”
ترجمہ: "یہ ایک مضبوط نسل ہے، عمدہ جسمانی ڈھانچے والے، اور بہترین سپاہی بنتے ہیں۔”
– Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94

3. “they planned an attack on the hill station of Murree … eleven villages of the rebels burnt; while fifteen of the ringleaders … suffered death.”
ترجمہ: "انہوں نے مری کی پہاڑی چھاؤنی پر حملے کی منصوبہ بندی کی … باغیوں کے گیارہ گاؤں جلا دیے گئے؛ جبکہ پندرہ سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی۔”
– The Panjab Chiefs by Lepel H. Griffin, Chronicle Press, Lahore, 1865

4. “the Dhoonds … are too divided amongst themselves to be able to aid in the transmission of letters.”
ترجمہ: "ڈھونڈ … آپس میں اتنے تقسیم شدہ ہیں کہ خطوط کی ترسیل میں بھی مدد نہیں دے سکتے۔”
– Journals and Correspondence of Captain James Abbott, 1847

5. “there is no dealing with a people flushed with victory, and the incident is sufficient to cause a general rising.”
ترجمہ: "ایسے لوگوں سے معاملہ کرنا ممکن نہیں جو فتح کے نشے میں ہوں، اور یہ واقعہ ایک عام بغاوت بھڑکانے کے لیے کافی ہے۔”
– Captain James Abbott’s Journal, 1847

6. “I admire and sympathise with the struggle of free tribes for their liberty…”
ترجمہ: "میں آزاد قبائل کی اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کی تعریف کرتا ہوں اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں…”
– Captain James Abbott’s Journal, 1847

7. “certain chiefs such as the Khan of Boi were recognised by Government with jagirs and privileges.”
ترجمہ: "کچھ سردار، جیسے خان آف بوئی، کو حکومت نے جاگیریں اور مراعات دے کر تسلیم کیا۔”
– Hazara District Gazetteer, Punjab Government, 1909

حوالہ جات (References)

1. Gazetteer of the Rawalpindi District 1893–94, F. A. Robertson, Civil & Military Gazette Press, Lahore, 1895.

2. The Panjab Chiefs, Sir Lepel H. Griffin, Chronicle Press, Lahore, 1865.

3. Journals and Correspondence of Captain James Abbott, Boundary Commissioner, Punjab, 1847.

4. Hazara District Gazetteer, Punjab Government, 1909.


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481