اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں7 بند ٹوٹ گئے

دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں7 بند ٹوٹ گئے

دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں7 بند ٹوٹ گئے

دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں 7 بند ٹوٹ گئے جس کے باعث ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آگئیں۔ تفصیل کے مطابق دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف اور احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں۔ حکام کے مطابق دریائے چناب سے جھنگ کے گائوں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے قصور کے اسکول میں قائم ریلیف کیمپ دورہ کیا، خواتین اور بچوں سے بات چیت کی اور مسائل دریافت کئے۔ دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن اضلاع سے سیلابی ریلہ گزر چکا ہے وہاں پر ہمارا سارا فوکس متاثرین کی مدد کرنے پر ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیاگیا، متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد کا انخلا کیا، پنجاب میں سیلاب کے باعث 2200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئی، متاثرین کے جانوروں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے بیڑوں کا انتظام بھی کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بارشوں کے نئے اسپیل سے بھی تباہی ہوئی ہے اور بارش کی وجہ سے اربن فلڈنگ کی صورتحال سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے واقعات سے ہلاکتوں کی تعداد اب 33 ہوگئی ہے۔ ادھر کمشنر ملتان عامر کریم نے کہا ہے ابھی 40 ہزار کیوسک کا ریلا ملتان میں داخل ہوا ہے اور پیر کو دریائے چناب میں ملتان سے تقریبا 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا خدشہ ہے۔کمشنر ملتان کے مطابق ہیڈ تریموں سے 7 لاکھ کیوسک جبکہ راوی سے 90 ہزار کیوسک پانی ملتان میں داخل ہوگا، ہیڈ محمد والا کی گنجائش 10 لاکھ کیوسک ہے تاہم ضرورت پڑنے پر ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کا کہناہے کہ دریائے چناب کا ریلا2 سے3 ستمبرکے دوران مظفرگڑھ کی حدود میں داخل ہوگا، اس حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں۔ فیصل آباد کے قریب دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے دریا کے اطراف سیکڑوں ایکڑ اراضی اور فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کا بتانا ہے کہ فیصل آباد ماڑی پتن کے علاقے سے 2 لاکھ 15 ہزار کیوسک کا ریلا گزررہا ہے، 1500 سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانیکے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا جس کے باعث جھنگ میں 220 دیہات ڈوب گئے، سیکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں، رابطہ سڑکیں پانی میں غائب ہو گئیں۔ادھرپنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔گدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481