اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب

دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر ایک بار پھر نچلے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا گیا۔دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے۔ اس وقت پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو بیراج کے مقام 66 ہزار 479 کیوسک پانی کی سطح کم ہوئی۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔حکام کے مطابق آئندہ 4 روز تک پنجند سے پانی کا ریلا گڈو بیراج کے مقام پر پہنچے گا جس کے بعد مزید سطح بلند ہونے کا امکان ہے، 4 سے 5 ستمبر کے درمیان بڑا ریلا پہنچے گا۔قبل ازیں، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ 2 یا 3 ستمبر کی رات سیلاب سندھ میں داخل ہوگا، صوبے میں 16 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔شرجیل میمن کے مطابق سیلاب سے نمٹنے کیلیے تیاریاں کر لی گئی ہیں اور 102 حساس مقامات پر مشینری پہنچا دی گئی ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری خود صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دریا کنارے آبادیوں سے نقل مکانی شروع ہو چکی ہے، کچے کے علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا ہو گیا، کوئی نہیں چاہتا کہ اپنے گھر چھوڑ کر امدادی کیمپوں میں رہیں، تاہم عوام سے اپیل ہے کہ سیلاب والے علاقوں سے نکل جائیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی پوری توجہ انسانی جانوں کو بچانے پر ہے، گدو بیراج 12 لاکھ کیوسک تک ریلا برداشت کر سکتا ہے، توقع ہے اتنا ہی پانی آئے گا جتنا برداشت کر سکتے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481