اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خاور حسین کی موت خود کشی قرار۔۔۔ مگر محرکات ندارد!

خاور حسین کی موت خود کشی قرار۔۔۔ مگر محرکات ندارد!

خاور حسین کی موت خود کشی قرار۔۔۔ مگر محرکات ندارد!

خاور حسین کی موت سے متعلق قائم سندھ پولیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ سندھ پولیس کی 8 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام شواہد کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ سینئر رپورٹر خاور حسین نے خودکشی کی ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا کہ کراچی سے لے کر سانگھڑ تک خاور حسین کے سفر میں دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز، جائے وقوع کا تفصیلی جائزہ، عینی شاہدین کے انٹرویوز اور مرحوم خاور حسین کے ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہونے سے خودکشی تک ویڈیوز کو تمام پہلوؤں سے دیکھا گیا، اس کے ساتھ ساتھ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاور حسین کی گاڑی ریسٹورنٹ کے باہر 2 گھنٹے تک کھڑی رہی، اس دوران کسی بھی شخص کے مرحوم سے ملنے کے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی کوئی ان کی گاڑی کے قریب آیا۔ سندھ پولیس کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ میڈیکل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی خودکشی بتایا گیا ہے، جبکہ خاور حسین کی موت 16 اگست (ہفتے) کی رات 9 بج کر 58 منٹ سے 10 بج کر 35 منٹ کے درمیان ہوئی۔ رپورٹ میں مزید بتایا کہ خاور حسین کو قتل کرنے یا پھر حادثاتی طور پر گولی چلنے کے عنصر کو رد کیا گیا ہے، ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ مرحوم رپورٹر کی خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے اُن کے اہل خانہ کا آگے آنا ضروری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کچھ صحافیوں اور خاور حسین کے قریبی جاننے والوں نے آف دی ریکارڈ بتایا کہ متوفی اور ان کی اہلیہ کے درمیان تعلقات شدید خراب چل رہے تھے، اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481