اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

9 ویں قسط ۔۔ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

IMG 20250721 WA0150 9 ویں قسط ۔۔ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

9 ویں قسط ۔۔ محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی

محرومیوں، مشکلات اور حوصلے کی کہانی۔ میں نے دکھ کو طاقت کیسے بنایا؟

(نویں قسط)

ہماری دادی جان ہمارے ساتھ رہنے کے بجائے ہمارے چچا زاد بھائی اعجاز عباسی کے کچے مکانوں اور زمین کی دیکھ بھال کے لیے ان کے مکان میں اکیلی رہتی تھیں۔ اس ڈھوک کو "اتانا پیتل” کہتے ہیں۔ (خدا خبر اس نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔) ہمارا گھر اپر ملکوٹ والی جامع مسجد کے پاس تھا۔ یوں تو وہاں سے ڈھوک اتاناپیتل بہت دور نہیں تھی لیکن بڑھاپے کی وجہ سے دادی جان روزانہ اکیلی پیدل نہیں آ سکتی تھیں۔ وہ ہفتے میں ایک آدھ رات ہمارے ساتھ گزارتیں اور صبح سویرے رخصت ہو جاتیں۔ ہمارے دوسرے چچا (خاقان عباسی) کا گھر بھی وہیں تھا لیکن وہ ان کے ساتھ نہیں رہتی تھیں۔ حال آنکہ ہماری وہ چچی ان کی بہو ہونے کے ساتھ ساتھ سگی بھتیجی بھی تھیں۔ ہماری ایک پھوپھی جان کا گھر نزدیکی ڈھوک کھاخوڑیہ میں تھا، وہ کبھی کبھار ادھر چلی جاتیں۔ ہمارے پھوپھا سائیں یونس صاحب پیر فقیر اللہ بکوٹی صاحب کے مرید تھے اور نظر وغیرہ کا دم کرتے تھے۔ سائیں یونس صاحب گاؤں کے اکثر لوگوں کی طرح سیدھے سادے محنت کش اور حلال خور تھے۔

ہماری برادری (ہاشم علی آل) کی اکثریت اتاناپیتل اور کھاخوڑیہ میں مقیم تھی۔ سرکل بکوٹ کی سیاست کا ایک بڑا نام حاجی مجید صاحب بھی کھاخوڑیہ میں رہتے تھے۔ یوں تو وہ راولپنڈی راجہ بازار میں آڑہت کے کاروبار سے منسلک تھے لیکن سیاسی معاملات اور برادری کے اجلاس کھاخوڑیہ میں ہی ہوتے تھے۔

دادی جان کے بچپن میں پورے علاقے میں کوئی سکول ہی نہیں تھا اس لیے شاذ و نادر ہی علاقے میں کوئی شخص لکھنا پڑھنا جانتا تھا۔ دادی جان نے بھی نہ دینی اور نہ ہی دنیاوی تعلیم حاصل کی تھی لیکن خدا کی ذات پر ان کا یقین اتنا پختہ تھا کہ بڑے بڑے ولی اللہ حیرت زدہ ہو جائیں۔ ان کی دعا (اور بد دعا میں بھی) میں بلا کا اثر تھا۔ مجھ ناچیز سمیت جس جس کو انھوں نے دعاؤں سے نوازا اس کو اللہ نے نواز دیا۔ ڈھوک اتاناپیتل اور ہماری بستی کے درمیان میں اکھوڑیاں کے مقام پر پانی کا نلکا تھا، جہاں سے عورتیں پانی بھر کے لے جاتیں تھیں۔ گرمیوں میں ہم لوگ چونکہ بہکاں (تہارا) نقل مکانی کر جاتے تھے اور پانچ چھ مہینے تک وہیں رہتے تھے اس لیے گھر کی خواتین ہفتے میں ایک آدھ بار ہی آ کر دادی جان کے کپڑے دھوتیں، گھر کی صفائی وغیرہ کرتیں اور پانی بھر کے دے جاتی تھیں۔ کسی دن شاید پینے کا پانی ختم ہو گیا تو دادی جان پانچ لٹر والا ٹین کا ڈبہ لے کر نلکے پر پانی لینے چلی گئیں۔ نلکے سے تھوڑا سا پہلے اسلم صاحب کا گھر تھا۔ محنت کش آدمی تھے۔ گاؤں کے اکثر مکینوں کی طرح معاشی مسائل میں گھرے رہتے تھے۔ دادی جان ان کے گھر کے سامنے سے گزر رہی تھیں کہ ان کی نظر پڑ گئی۔ اسلم صاحب دوڑے دوڑے آئے، ان کے ہاتھ سے ڈبہ لیا، اپنے گھر سے اس میں پانی بھرا اور ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ان کے گھر تک آ کر خود پانی گھڑے میں انڈیل کر واپس لوٹ گئے۔ پھر ان کا معمول بن گیا کہ وہ روزانہ ایک ڈبہ پانی ان کے گھر پہنچا آتے حال آنکہ دادی جان نے بہت منع کیا اور انھوں نے خود بھی دیکھا کہ دو چار دنوں کے بعد خواتین آ کر گھر کے کام کاج کرتیں، صفائی ستھرائی کرتیں اور تمام برتنوں میں پانی بھر جاتیں۔ لیکن اسلم صاحب نے گھڑے میں روزانہ تازہ پانی کا ڈبہ انڈیلنا اپنا معمول بنا لیا۔ دادی جان جھولی اٹھاتیں اور اسلم صاحب کے لیے دعا کرتیں۔۔۔۔"یا میرے سوہنے مالک۔۔۔ اس اسلم کو رنگ دے”۔ میں میٹرک کے دوران گاؤں سے راولپنڈی آ گیا۔ پھر تعلیمی سلسلے میں مصروف ہو گیا۔ بہت عرصے بعد گاؤں گیا تو اسلم صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ حال احوال پوچھا تو فرمانے لگے۔۔۔
"اللہ کا بے پناہ فضل ہے۔ دادی افسر جان کی دعاؤں نے واقعی اسلم کو رنگ دیا ہے۔ بچوں کا کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ اللہ پاک آپ کی دادی جان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے”۔

دادی جان کی ساری زندگی اس وقت کی دیگر عورتوں کی طرح محنت مشقت میں گزری۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ نماز، ذکر اور زمین کی دیکھ بھال ہی ان کی مصروفیت کا محور تھے۔ ہمارے ہاں بڑی فصل مکئی کی ہوتی تھی۔ جب مکئی کو کوٹ کر دانے الگ کر لیے جاتے تو دادی جان مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کو بلاتیں اور وہ عشر کی مقدار الگ کر دیتے۔ یہ دانے ضرورت مندوں کا حق سمجھ کر ان کو عزت سے پیش کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے کام کرنے والے لوگ بھی اجرت کے بجائے فصل پکنے پر اس میں سے تھوڑا سا حصہ وصول کرتے تھے اسے "کھلین” کہتے تھے۔ گاؤں میں نمبردار بھی ہوتے تھے، جو اکثر اکھڑ اور سخت طبیعت ہوتے تھے۔ وہ سرکاری احکام لوگوں تک پہنچاتے اور ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اس ٹیکس کو "ٹہال باچھ” کہا جاتا تھا۔

دادی جان کو کسی مسلک اور فرقے کا کچھ علم نہ تھا۔ دین کے بارے میں ان کے نظریات بہت سادہ اور عام فہم تھے۔ وہ کسی پر جور جبر اور زیادتی کی قائل تھیں نہ ہی ظلم و زیادتی برداشت کرنے کی۔ عورت ہو یا مرد، غلط بات پر لاٹھی لے کر اس کے سامنے کھڑی ہو جاتیں۔

جمعرات کو اہتمام کے ساتھ انڈا، پراٹھا، چائے وغیرہ سامنے رکھ کر مرحومین کی مغفرت کے لیے بلا ناغہ دعا کرتیں۔ دعا کرتے ہوئے ان کے چہرے کی جھریاں اشکوں سے تر ہو جاتیں۔ اس وقت نماز کی نیت (جو اگرچہ اضافی ہے) سے لے کر دعا تک سب اپنی ماں بولی میں ہوتا تھا۔ جب بزرگ اپنی ماں بولی میں دعا مانگتے یا کسی کو دعا دیتے تو ان کے جذبات کی شدت واضح ہوتی۔

گرمیوں میں اہل خانہ بہکاں منتقل ہو جاتے تو میں اکثر دادی جان کے ہاں ہی ٹھہرتا۔ رات کا کھانا وغیرہ بھی بنا لیتا۔ روٹیاں پڑوس کی خواتین پکا دیتیں۔ لیکن صبح ناشتہ میں خود بناتا اور دادی جان کے لیے بھی پراٹھا پکا لیتا۔ اب یاد کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کتنی کم مشقت کا کتنا گراں مایہ صلہ ملا ہے۔ جب میں سکول کے لیے نکلتا تو دادی جان دعائیں مانگتے گھر سے تھوڑا سا نیچے آ کر بیٹھ جاتیں جہاں سے کافی دور تک رستہ نظر آتا تھا۔ میں اب بھی چشم تصور وا کرتا ہوں تو دادی جان کو ایک پتھر پر براجمان محو دعا دیکھتا ہوں۔ اللہ پاک ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک وسیع باغ بنائے۔۔ آمین

(جاری ہے)

راشد عباسی ۔۔ راولپنڈی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481