قبائلی علاقوں میں مسلح گروہوں کا راج ہے:مولانا فضل الرحمٰن
عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام آل پارٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کی رٹ کے حوالے سے یہ بڑا سوالیہ نشان ہے، معاملات حل کرنے کے بجائے طاقتور ادارے اپنی اتھارٹی قائم کرنے کے چکر میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ خیبرپختونخوا:تباہ سرکاری ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل گیا
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی سیاسی قیادت نے آئین، وفاقی ہم آہنگی اور امن و امان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی، صوبائی حقوق کی پامالی اور سیاسی اختلافات کا حل صرف مذاکرات، شفاف جمہوری عمل اور وفاقی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ سیاسی مصالحت معافی اور ایمانداری سے ممکن ہے، عاصم منیر
پیپلز پارٹی کے نیئر حسین بخاری نے کہا کہ قومی مفاد میں حکومت سازی اور سیاسی مذاکرات ضروری ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے عرفان صدیقی نے کہا کہ فوج ملک کی حفاظت کر رہی ہے اور صوبوں کی یکجہتی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔
رہنماؤں نے ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سرحدی سیکیورٹی کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون پر زور دیا۔
