اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خیبرپختونخوا:کلاؤڈ برسٹ،سیلاب،200سے زائداموات

خیبرپختونخوا:کلاؤڈ برسٹ،سیلاب،200سے زائداموات

خیبرپختونخوا:کلاؤڈ برسٹ،سیلاب،200سے زائداموات

 

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 200 سے زائد ہوگئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی کمشنر بونیر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صرف بونیر میں 157 اموات ہوئیں جبکہ صوبائی حکومت نے کل سوگ منانے کا اعلان کردیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ، طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہے۔ کلاؤڈ برسٹ، آسمانی بجلی گرنے، ندی نالوں میں طغیانی، سیلابی ریلے، زمین کا کٹاؤ اور رابطہ سڑکوں کی بندش نے نظامِ زندگی مفلوج کردیا ہے۔

 

خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے کے باعث شدید بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 200 سے ہوگئی جبکہ بارشوں میں صوبے بھر میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔

 

خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلع بونیر میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

 

محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

 

ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) کے مطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹے میں بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنےسے 150 اموات ہوئی ہیں۔

 

ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد میں 128مرد، 9 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، شدید بارشوں سے گلگت میں 5 اور آزاد کشمیر میں 9 افراد جاں بحق ہیں۔

 

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوامیں بارشوں کےسبب حادثات میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

 

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے سمیت پاک آرمی، ضلعی انتظامیہ،امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں، شہری بارشوں اورسیلاب میں محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

 

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے بننے والی سیلابی صورتحال کے باعث خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جانی اور مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے۔

 

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک مجموعی طور پر 189 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ بارشوں سے صوبے بھر میں 21 افراد زخمی بھی ہوئے اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 163 مرد، 14 خواتین اور 12 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 18 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

 

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر بارش اور سیلابی ریلوں سے 45 گھر وں کو نقصان پہنچا، جن میں 7 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے جبکہ 38 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ 43 جانور سیلابی ریلوں میں بہہ کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

 

حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ كے باعث سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع بونیر، باجوڑ اور بٹگرام ہیں جہاں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

 

پی ڈی ایم اے کے مطابق 2 ہیلی کاپٹرز ضلع باجوڑ اور بونیر روانہ کر دیے گئے ہیں۔ شدید بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

 

خیبر پختونخوا حکومت نے سیلاب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 50 کروڑ روپے جاری کردیے۔ ضلع بونیر کو 15 کروڑ، باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کو10، 10 کروڑ اور سوات كو 5 كروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

 

پی ڈی ایم اے نے پہلے ہی سے موسمی صورتحال کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ ارسال کر دیا تھا۔

 

پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متاثر اضلاع میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو سیاحتی مقامات پر بند شاہراوں اور رابطہ سٹرکوں کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

ڈی سی بونیر کاشف قیوم کے مطابق پیر بابا اور دیگر علاقے میں شدید سیلابی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے شہری گھروں کے چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں۔

 

ڈپٹی کمشنر نے مختلف علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ضلع میں 157 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جاں بحق افراد میں 37 مرد، 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔

 

ڈی سی کا کہنا تھا کہ بونیر پیربابا میں جس طرح نوجوانوں نے جان پر کھیل کر پنجاب سے آئی ہوئی فیملی کی جان بچائی اس کی مثال نہیں ملتی۔

 

انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں سے نقصانات کا اندیشہ ہے، پیر بابا بازار کا ایک حصہ اور ایک محلہ پانی میں ڈوب رہا ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

 

گوکند کے علاقے میں مسجد شہید ہوگئی جبکہ بڑی تعداد میں مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے جبکہ پیر بابا پولیس اسٹیشن بھی سیلابی پانی میں ڈوب گیا۔ ڈی سی نے مختلف علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

 

ترجمان ریسکیو خیبرپختونخوا بلال فیضی نے بتایا کہ سیلاب کے باعث پھنسے 2،800 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، ضلع بونیر میں 17 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

 

ضلع باجوڑ کی تحصیل سلارزئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 21 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے، 19 افراد کی لاشیں برآمد کرلی گئیں جبکہ 2 افراد کی تلاش جاری ہے۔

 

ریسکیو 1122اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی کے مطابق باجوڑ کے تحصیل سلارزئی کے گاؤں جبراڑئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے شدید تباہی ہوئی، جس کے نتیجے میں 04 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

 

ضلع باجوڑ کے تحصیل سلارزئی کے علاقہ جبراڑئی میں رات تقریبا 12 بجے بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 4 مکان تباہ ہوگئے ہیں۔

 

مقامی لوگوں کے مطابق حادثے میں 26 افراد ملبے تلے دب گئے، جنہیں نکالنے کے لیے مقامی لوگوں نے امدادی کاروائیاں شروع کی۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی رات کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی تاہم پانی کے بہاو تیز اور سطح اوپر ہونے اور پہاڑی تودہ گرنے سے راستہ بند ہونے کی وجہ سے ریسکیو کی مشینری کو پہنچنے میں کافی مشکل پیش آئی۔ تمام مشکلات کے باوجود بھی ریسکیو نے آپریشن میں حصہ لیکر ملبے تلے دب جانے والے افراد کو نکالا۔

 

ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی، اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر امجد خان بھی فوری طورپر امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے جائے وقوع پر پہنچے اور امدادی کاروائیوں کی نگرانی کی۔

 

ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 19افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 5 زخمیوں کو نکالا گیا، جس میں 3 کوعلاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار منتقل کیا گیا ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مزید 2 لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

 

جاں بحق افراد میں ایک خاندان کے 8 جبکہ 2 خاندانوں کے 5،5 افراد بھی شامل ہیں۔ ریسکیو 1122،ضلعی انتظامیہ باجوڑ کے آفیسران، الخدمت فاونڈیشن اور مقامی لوگوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے۔

 

امیر جمعیت علمائے اسلام باجوڑ مولانا عبدالرشید نے جنازہ پڑھائی۔ نمازجنازہ میں رکن صوبائی اسمبلی انورزیب خان، ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی، اسسٹنٹ کمشنر خار ڈاکٹر صادق علی، قبائلی مشیران اور مقامی لوگوں نے شرکت کی تاہم جاں بحق افراد کو سپردخاک کردیا گیا ہے۔

 

دریں اثناء ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ خار اسپتال ڈاکٹر نصیب گل نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار میں حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد لاگئے گئے تھے جن میں 2 زخمیوں کا علاج کرکے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ ایک زخمی کو تشویشناک حالت میں پشاور ریفر کردیا گیا ہے۔

 

باجوڑ کے اراکین صوبائی ڈاکٹر حمید الرحمان، نثار باز اور سیاسی قیادت نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور جاں بحق افراد کے ورثاء سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔

 

مانسہرہ اوربٹگرام کی حدود ڈھیری حلیم نیل بن میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 22 میں سے 16 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 6 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیوآپریشن جاری ہے۔

 

اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام کے مطابق ضلع مانسہرہ اور ضلع بٹگرام کی حدود پر واقع ڈھیری حلیم نیل بن میں آسمانی بجلی گرنے سے 22 افراد پانی میں بہہ کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ اب تک 16 افراد کی لاشیں اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام کی نگرانی میں نکال لی گئی ہیں۔

 

جن افراد کی لاشیں نکالی گئیں ان میں مرد، خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ 6 لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریونیو اسٹاف، مقامی افراد، پولیس اور ریسکیو 112 نے آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ سیلابی ریلے میں 8 مکانات، درجنوں مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔

 

دوسری جانب ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ میں مہران گاڑی بسیاں کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جس کے باعث مانسہرہ کے رہائشی حمزہ اور اسد جاں بحق ہوگئے۔

 

گڑھی حبیب اللہ کے علاقے خیر آباد میں مکان کی چھت گرنے سے ذاہد شاہ کی اہلیہ اور اس کی 15 سال کی بچی ماہ نور جاں بحق ہوگئی۔

 

ضلعی انتظامیہ نے سرن ویلی میں دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے سرن ویلی میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

 

شاہراہ کاغان پر مانسہرہ سے کاغان تک لینڈ سلائیڈنگ سے سڑک بند ہوگئی جسے بحال کردیا گیا ہے۔

 

ضلع مانسہرہ میں تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں، بارش کا سلسلہ تھمنے کے بعد ندی نالوں اور دریائے کنہار کے بہاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

 

لوئر دیر کی تحصیل لعل قلعہ میدان کے گاؤں سوری پاؤ میں موسلادھار بارش سے ایک مکان کی چھت منہدم ہو گئی جس میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہو گئے۔

 

ریسکیو 1122 کے ترجمان عبدالرحمان کے مطابق بچوں اور خواتین سمیت 9 افراد ملبے تلے دب گئے، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے فوری امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ملنے دبے افراد کو نکال لیا۔

 

جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے، 2 بچیاں اور ایک خاتون شامل ہیں، زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال تیمرگرہ منتقل کیا گیا۔

 

ریسکیو ذرائع کے مطابق بونیر کے علاقہ پیر بابا اور گردونواح میں موسلادھار بارش سے پیربابا خوڑ سمیت دیگر برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے، تحصیل ڈگر کے علاقہ گوکند میں اسکول ٹیچر سمیت 8 بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ ڈگر کے علاقہ کلیل میں بھی اسکول کے 2 بچوں کے سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔

 

ریسکیو ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، ڈی ای او نے ضلع بھر میں موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث اسکولوں میں چھٹی دے دی، اس وقت سیلابی ریلا پاچا سلطانوس، غازی خانے، پیرا بئی، ایلئی اور ڈگر سے گزر رہا ہے۔

 

اے ڈی سی ریلیف کا کہنا ہے، ندی نالوں میں طغیانی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، ڈگر اور گردو نواح کی آبادی احتیاط کرے۔

 

سوات، مینگورہ شہر اور گردونواح میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، آسمانی بجلی اور سیلاب میں بہہ جانے سے بچوں اور خواتین سمیت 9 افراد جاں بحق اور 3 تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

 

مینگورہ شہر میں درجنوں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے، 5 رابطہ پل بھی پانی کے نذر ہوگئے ہیں، جس سے لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

سوات کے کئی علاقوں میں بجلی بھی بند ہے، موبائل نیٹ ورک اور نیٹ سروس بھی معطل ہے جبکہ مینگورہ شہر میں سوئی گیس سپلائی بھی بند ہے۔

 

پاک فوج کا سوات اور باجوڑ سمیت سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جہاں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

باجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو بروقت بچایا جا سکے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں راشن اور ادویات کی فراہمی بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے یقینی بنائی جا رہی ہے، تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو تک آپریشن جاری رہے گا۔

 

امدادی ٹیموں کی آمد پر مقامی آبادی نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کیے جبکہ اہلِ علاقہ نے مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج کے بروقت اقدام کو سراہا۔

 

آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں بھی بادل پھٹنے سے تباہی کا سامنا ہے، جہاں مختلف حادثات میں 18 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

 

آزاد کشمیر میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی نہ تھم سکا، سڑکیں اور پل تباہ ہونے سے کئی علاقوں کے درمیان زمین رابطے منقطع ہوچکے ہیں۔

 

مظفرآباد کی تحصیل نصیرآباد میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث سچہ نالے میں طغیانی آ گئی، جس کی زد میں آ کر ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ایک نوجوان کی لاش پلندری کے قریب ڈیم سے ملی جبکہ پلندری میں ایک خاتون جاں بحق اور ایک زخمی ہوگئی۔

 

باغ کے علاقے میں سیاحوں کی گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، تاہم خوش قسمتی سے سیاحوں کو بروقت نکال لیا گیا۔ مچھارہ نالے پر پل اور جہلم ویلی کے علاقے میں 4 دکانیں سیلاب میں بہہ گئیں۔

 

وادی نیلم میں رتی گلی کے مقام پر 500 سیاح بیس کیمپ میں پھنس گئے ہیں، جبکہ دریائے پونچھ میں پھنسے 4 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

 

مظفرآباد ایبٹ آباد روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہوگیا، جس کے نتیجے میں کئی اہم راستے جیسے کہ جہلم ویلی ہٹیاں بالا اور وادی لیپا بھی مکمل طور پر بند ہو گئے۔

 

آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے باعث تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو دو روز کے لیے بند کر دیا ہے۔

 

گلگت بلتستان میں بھی کلاؤڈ برسٹ نے شدید تباہی مچائی ہے۔ غذر میں سیلاب میں بہہ جانے والوں کی تعداد 10 ہوگئی، ضلع غذر میں 8 اور دیامر میں 2 بہن بھائی جاں بحق ہوئے۔ شندور روڈ اور دیوسائی روڈ کئی مقامات پر بند جبکہ تحصیل اشکومن اور یاسین کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

 

دیامر کے علاقے میں بھی سیلاب کی وجہ سے 2 افراد ریلوں میں بہہ گئے، جبکہ سکردو، کھرمنگ اور شگر میں سیلاب نے درجنوں دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے مکانات، فصلیں، باغات اور بجلی کے کھمبے تباہ ہوگئے۔

 

گلگت بلتستان کے اشکومن روڈ پر 8 مختلف مقامات پر سیلاب نے سڑکوں کو بند کر دیا ہے، جبکہ دیو سائی جانے والی سڑک بھی تباہ ہو گئی ہے جس کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس گئی ہے۔

 

سیلابی ریلے، مٹی کے تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مقامی عوام کے لیے اپنی جان بچانا مشکل ہوگیا۔

 

انتظامیہ نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں فوج اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔

 

جبکہ ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر پگھلنے کے باعث حسن آباد نالے کے دونوں اطراف سے کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔

 

ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 10 افراد جاں بحق ہوئے 2 افراد لاپتہ اور 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن کی طبی امداد جاری ہے۔

 

ترجمان نے بتایا کہ بلتستان کا علاقہ گیول، شکر اور دیگر علاقوں میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، تاہم ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481