اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نئی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کیا ہے

What is the new Army Rocket Force Command?

نئی آرمی راکٹ فورس کمانڈ کیا ہے

دہائیوں سے سرحد پار درست حملوں کی صلاحیت صرف فضائی افواج کے پاس تھی، مگر اب پاکستان آرمی اس صورتحال کو بدل رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس نئی فورس کا اعلان کیا اور کہا کہ ’یہ فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی‘۔ بعدازاں وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ راکٹ فورس پاکستان کی جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گی۔

وزیراعظم نے مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

لیکن پاکستان میں موجود جوہری طاقتوں کی پالیسیز کے چند ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر رابعہ اختر بتاتی ہیں کہ اس فورس کے آنے سے چھوٹے توپ خانوں والے ہتھیار اور بڑے ایٹمی میزائلوں کے حوالے سے فیصلوں کے درمیان موجود خلا ختم ہو جائے گا۔

ڈاکٹر رابعہ کے مطابق، ’’فتح فور‘‘ زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے اور 750 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ میزائل پاکستان کا پہلا ایسا روایتی (غیر ایٹمی) سسٹم ہے جو طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر رابعہ نے آرمی راکٹ کمانڈ فورس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ فورس خود مختار طور پر کام کرے گی۔ اس فورس سے چھوٹے توپ خانوں والے ہتھیار اور بڑے ایٹمی میزائل فائر کرنے کے حوالے سے موجود خلا ختم ہو جائے گا۔‘ یعنی اب الگ الگ راکٹس اور میزائل چلانے کے لیے الگ الگ اجازتوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

آسان الفاظ میں کہیں تو پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ روایتی میزائلز (کرُوز اور بیلسٹک، سب سونک، سپر سونک اور ہائپر سونک)، میڈیم اور لانگ رینج کے راکٹس استعمال کرنے کے لیے خود فیصلہ لے سکے گی۔ اس طرح یہ کمانڈ پاکستان کی فوج کو زیادہ طاقتور اور درست انداز میں دشمن کے اہداف پر حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، یہ کمانڈ پاکستان کی فوج کو زیادہ طاقتور اور درست انداز میں دشمن کے اہداف پر حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ڈاکٹر رابعہ کا کہنا ہے کہ ’اب پاکستان دشمن کے علاقے میں دور تک درست، غیر ایٹمی حملے کر سکے گا، جبکہ ایٹمی ہتھیار صرف ڈرانے اور روکنے کے لیے رکھے گا۔‘

ڈاکٹر رابعہ نے مزید وضاحت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے یہ راکٹ سسٹم مختلف جگہوں سے الگ الگ چلائے جاتے تھے، اب انہیں ایک ہی کمانڈ میں جمع کر دیا گیا ہے، بالکل ویسے جیسے چین کی فورس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان دشمن کی اہم تنصیبات اور فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی بہتر صلاحیت حاصل کر لے گا، جس سے بھارت کے لیے حملے کی منصوبہ بندی مشکل ہو جائے گی اور پاکستان کی روایتی (غیر ایٹمی) طاقت بھی مزید مضبوط ہو گی۔

اس مرکزی کنٹرول کے ذریعے پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ استعمال کر کے انڈیا کے فضائی دفاع، ایئر بیسز اور کمانڈ مراکز کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔

لیکن کیا چین اور پاکستان ہی اس قسم کی کمانڈ فورس رکھتے ہیں؟ جی نہیں ایران، بھارت، شمالی کوریا اور روس میں بھی آرمی راکٹ فورس کمانڈ دیگر ناموں سے موجود ہیں۔

750 کلومیٹر کی طویل رینج رکھنے والے فتح فور کروز میزائل اور اے-100 ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹمز (MLRS) ممکنہ طور پر پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مرکزی حصہ ہوں گے، جو بھارت میں گہرائی تک درست نشانے پر حملے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481