اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل قومی اسمبلی سے منظور

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل قومی اسمبلی سے منظور

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل قومی اسمبلی سے منظور

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی کے نام سے اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کے پاس املاک کو خریدنے فروخت کرنے تبادلہ کرنے واگزار کرانے کا اختیار ہوگا، اتھارٹی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہوگا۔

وزیر اعظم پاکستان اتھارٹی کی ایک 15 رکنی گورننگ کونسل تشکیل کریں گے، منسٹر آف ایڈمنسٹریٹو ڈویژن گورننگ کونسل کا صدر ہوگا، سیکرٹری ایڈمنسٹریٹو ڈویژن، سیکرٹری کامرس، سیکرٹری مواصلات سیکرٹری ڈیفنس، سیکرٹری ریونیو ڈویژن کونسل کے اراکین ہونگے۔

سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی، سیکرٹری فوڈ سکیورٹی، مینجنگ ڈائریکٹر، ڈی جی ایف آئی اے بھی کونسل کے اراکین میں شامل ہیں، چیف ایگزیکٹو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ممبر کسٹمز، ملک بھر کے چیمبر آف کامرس کی نمائندہ تنظیم کے صدر بھی اراکین میں شامل ہیں۔

اکنامک ایکسپرٹ، لیگل ایکسپرٹ، اور ایڈیشنل سیکرٹری بارڈر مینجمنٹ ونگ بھی کونسل کے اراکین میں شامل ہیں، گورننگ کونسل کا اجلاس سال میں کم از کم دو بار بلایا جائے گا، گورننگ کونسل اتھارٹی کی مجموعی نگرانی کیلئے ذمہ دار ہوگی۔

بل کے مطابق گورننگ کونسل پالیسی اقدامات پر غور کیلئے سفارشات مرتب کرے گی، اتھارٹی کا چیئرپرسن مینجنگ ڈائریکٹر ہوگا، اتھارٹی کا سیکرٹری ڈائریکٹر پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی ہوگا۔

ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمنسٹریٹیو ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت دفاع، ایڈیشنل سیکٹری کامرس اتھارٹی کے اراکین ہوں گے، چیئرمین این این ایچ اے، ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز، ایڈیشنل ڈی جی امیگریشن ایف آئی اے بھی اتھارٹی کے اراکین میں شامل ہوں گے۔

لینڈ پورٹ کو تیار کرنا، نظم و نسق تجارت، لینڈ پورٹ آپریٹرز کی کارکردگی اور نگرانی اتھارٹی کے کارہائے منصبی میں شامل ہے، سامان کی فوری کلیئرنس کیلئے اقدامات، عمل درآمد اور حکمت عملی مرتب کرنا اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481